امریکہ دہشت گردی کے قوانین کی خلاف ورزیوں کے لیےکولمبیا کے احتجاج کی تحقیقات کرے گا:اہلکار
یونیورسٹی کی مالی امداد معطل، ٹرمپ کے خط میں متعدد تبدیلیوں کے مطالبات
امریکی محکمہ انصاف نے جمعہ کو کہا، وہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ کولمبیا یونیورسٹی میں غزہ جنگ کے خلاف مظاہروں کے دوران دہشت گردی کے قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیاں ہوئیں۔ اس سے گذشتہ سال کے ملک گیر اسرائیل مخالف مظاہروں کے مرکز پر تازہ دباؤ آیا ہے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا کہ یہ تحقیقات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "اس ملک میں یہود دشمنی ختم کرنے کے مشن" کا حصہ ہیں اور اسے ایک مزاحمت قرار دیا جس کی "طویل عرصے سے ضرورت" تھی۔
شہری حقوق کے حامیوں نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی پہلی ترمیم مظاہرین کے آزادئ اظہار سمیت دیگر حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔
یہ اعلان ان اشاروں کے سلسلے میں تازہ ترین ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا فلسطینی حامی طلبہ کارکنان اور یونیورسٹی کی پالیسیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے جو کیمپس میں یہود دشمنی کو پرورش پانے کا موقع دیتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کولمبیا کو بتایا ہے کہ سکول کو ایک پیشگی شرط کے طور پر پالیسی میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی اگر وہ گذشتہ ہفتے معطل کردہ وفاقی فنڈنگ میں 400 ملین ڈالر کی بحالی پر بات چیت شروع کرنا چاہے۔
جمعرات کو ایک خط میں بیان کردہ مطالبات اتفاقاً اسی وقت سامنے آئے جب کولمبیا کے نیو یارک کیمپس میں وفاقی ایجنٹوں نے ہاسٹل کے دو کمروں کی تلاشی لی۔ یہ تلاشی امیگریشن حکام کے محمود خلیل کو حراست میں لینے کے ایک ہفتے بعد ہوئی جنہوں نے کولمبیا میں گزشتہ سال کے احتجاج کی قیادت کی تھی۔ انہیں ملک بدر کرنے کی کوشش ایک وفاقی عدالت نے روک دی ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں محکمہ تعلیم نے خبردار کیا کہ وہ مبینہ طور پر یہودیوں کے لیے مخالفانہ ماحول برداشت کرنے کے الزام میں 60 سکولوں کی تفتیش کر رہا ہے۔ ایک متعلقہ اقدام میں اس نے جمعہ کو کہا کہ وہ ان شکایات پر غور کر رہا ہے کہ 45 یونیورسٹیاں ایک تنوع پروگرام چلا رہی ہیں جو نسل کی بنیاد پر اہلیت کا تعین کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں 1964 کے شہری حقوق کے قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
ہاسٹل کے کمروں کی تلاشی
ٹرمپ انتظامیہ نے کولمبیا پر الزام لگایا ہے کہ کیمپس میں سرگرم کارکنان کے ہفتوں سے جاری کیمپ اور کیمپس کی عمارت پر ایک مختصر قبضے پر یونیورسٹی کی کارروائی ناکافی تھی۔
یونیورسٹی نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے یہود دشمنی کا مقابلہ کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ اسی دوران اس نے شہری حقوق کے گروپوں کے ان الزامات کو روکنے کی کوشش کی ہے کہ اس نے حکومت کو تعلیمی ادارے کے آزادانہ تقریر کے حقوق ختم کرنے کی اجازت دی۔
امریکن سول لبرٹیز یونین کے ایک سینئر سٹاف اٹارنی اور خلیل کی قانونی ٹیم میں شامل برائن ہاس نے محکمہ انصاف کی تحقیقات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے ایک بریفنگ میں کہا، "پہلی آئینی ترمیم فلسطینیوں کی حمایت اور حماس کی حمایت کو گڈمڈ کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔"
یونیورسٹی کی عبوری صدر کترینہ آرمسٹرانگ نے ایک بیان میں کہا کہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ایجنٹوں نے کولمبیا میں ایک وفاقی مجسٹریٹ کے دستخط شدہ وارنٹ کے ساتھ ہاسٹل کی تلاشی لی۔ کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا، نہ کوئی چیز ہٹائی گئی اور نہ ہی مزید کوئی کارروائی کی گئی۔
بلانچ نے کہا کہ تلاشی ان تحقیقات کا حصہ تھی کہ آیا کولمبیا یونیورسٹی نے اپنے کیمپس میں ایسے تارکینِ وطن کو پناہ دے رکھی ہے جو غیر قانونی طور پر ملک میں رہائش پذیر ہیں۔
طلباء نے کہا ہے کہ فیڈرل امیگریشن ایجنٹوں کو بار بار کولمبیا کے مین ہٹن کیمپس میں کمروں اور طلباء کی رہائش گاہوں میں دیکھا گیا ہے۔
جمعرات کو سکول کو ایک خط میں مطالبات میں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ کولمبیا باضابطہ طور پر یہود دشمنی کی تعریف کرے، "شناخت چھپانے یا ڈرانے کے مقصد سے" ماسک پہننے پر پابندی لگائے اور اپنے شرقِ اوسط، جنوبی ایشیائی اور افریقی علوم کے شعبہ جات کو "تعلیمی رسیورشپ" کے تحت رکھے جو ان کے اساتذہ کے کنٹرول سے باہر ہو جائے گا۔
یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ سکول اپنے داخلوں اور بین الاقوامی بھرتی کی پالیسیوں میں وفاقی قانون کے مطابق اصلاح کرے لیکن اس نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔
یونیورسٹی نے کہا ہے کہ وہ خط کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس نے ایک بیان میں کہا، "ہم اپنے مشن کو آگے بڑھانے، اپنے طلباء کی حمایت کرنے اور اپنے کیمپس میں ہر قسم کے امتیاز اور نفرت سے نمٹنے کے لیے ہر وقت پرعزم ہیں۔"
جمعے کے روز جب خلیل کے سینکڑوں حامیوں نے کولمبیا کے مرکزی دروازے پر مظاہرہ کیا تو وہاں سے گذرنے والے ایک گریجویٹ طالب علم نے کہا کہ کیمپس کی صورتِ حال افسردہ کرنے والا تھا۔ طالبِ علم نے صرف اپنا پہلا نام دیمیتری بتایا۔
انہوں نے کہا، "وفاقی حکومت یہ حکم نہیں دے سکتی کہ یونیورسٹی میں کیا پڑھایا جائے اور کیا نہیں اور کسے داخلہ دیا جائے اور کسے نہیں"۔
-
کولمبیا یونیورسٹی کی جانب سے عمارت پر قبضہ کرنے والے فلسطینی حامی مظاہرین کو سزا
معطلی سے لے کر ڈگریوں کی عارضی منسوخی اور یونیورسٹی سے اخراج کی سزائیں
بين الاقوامى -
میں سادہ لوح تھی جو اپنے شوہر کو محفوظ سمجھ بیٹھی: کولمبیا کے گرفتار طالبِ علم کی اہلیہ
حماس کے حامی طلباء کی ملک بدری کے لیے ٹرمپ انتظامیہ فعال
بين الاقوامى -
ٹرمپ انتظامیہ کا 41 ملکوں کے شہریوں پر نئی سفری پابندیاں عائد کرنے پر غور
60 روز میں خامیاں دور نہ کرنے پر پاکستان سمیت 26 ممالک جزوی پابندی کا شکار ہوسکتے
بين الاقوامى