منگل سے غزہ پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور پٹی کے وسطی اور جنوبی حصوں میں زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع ہو رگئی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے بدھ کی شام غزہ پر بمباری کے دوران ایک تعزیتی کیمپ کو نشانہ بنایا۔
العربیہ/الحدث کے نامہ نگارکے مطابق اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری میں غزہ شہر کے الزیتون محلے اور شمالی غزہ میں مشرقی بیت حنون کو نشانہ بنایا۔
غزہ میں شہری دفاع نے اطلاع دی ہے کہ بدھ کی شام غزہ کی پٹی کے شمال میں بیت لاہیہ کے قصبے میں ایک مکان پراسرائیلی فضائی حملے میں 14 فلسطینی مارے گئے۔
سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ قصبے کے السلطان کے علاقے میں ایک گھر پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک خاندان کے کم از کم 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جنہیں انڈونیشیا کے ہسپتال لے جایا گیا۔
ہلاکتیں 470 سےتجاوز کرگئیں
منگل کو صبح سویرے اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فضائی بمباری شروع کرنے کے بعد سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملوں میں بچوں اور خواتین سمیت 470 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
فلسطینی حکام نے واضح کیا کہ منگل کی صبح سے لے کر بدھ کی شام تک غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 470 سے بڑھ چکی ہے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ پر نئے سرے سے جنگ کے دوسرے دن بدھ کی شام تک پٹی میں 70 سے زائد افراد مارے گئے، جن میں بچے، خواتین اور شہری شامل ہیں۔ اس بمباری میں بعض خاندانوں کے تمام افراد مارے گئےہیں۔
جزوی بفر زون
قبل ازیں بدھ کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج نے وسطی اور جنوبی غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کارروائیوں نے غزہ کی پٹی کے مرکزی محور نیٹزارم کے محور پر اپنا کنٹرول بڑھایا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب کے درمیان ایک جزوی بفر زون بنانا تھا۔
’’نئے معاہدوں کی ضرورت نہیں‘‘
ادھر حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے کہا کہ "تحریک نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے ہیں اور تمام فریقین کے دستخط شدہ موجودہ معاہدے کی روشنی میں نئے معاہدوں کی ضرورت نہیں ہے"۔
انہوں نے مزید کہاکہ "حماس ثالثوں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کو اپنی جارحیت روکنے، جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کرنے اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرنے پر مجبور کریں جو 19 جنوری کو نافذ ہوا تھا۔
تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی
دریں اثنا ایک اسرائیلی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ اگر حماس مزید یرغمالیوں کے حوالے کرنے پر راضی ہوتی ہے تو تل ابیب نے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف اسرائیل کی نئی حملوں کی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ باقی تمام مغویوں کو رہا نہیں کیا جاتا۔
"بس شروعات"
حماس نے منگل کو کہا کہ اس نے مذاکرات کے دوران لچک کا مظاہرہ کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف کی تجویز کو قبول کیا اور اس پر مثبت انداز میں رد عمل دیا۔
دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ غزہ پر فضائی حملے "صرف آغاز" تھے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مذاکرات صرف بمباری میں ہی جاری رہیں گے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی فوج اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کہ حماس سمجھ نہ لے کہ کھیل کے اصول بدل چکے ہیں اور اسے تمام یرغمالیوں کو رہا کرنا چاہیے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حماس نے تمام قیدی رہا نہ کیے تو اس پر جھنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔