اسرائیلی فوج کا غزہ کی پٹی کے وسط اور جنوب میں کارروائی شروع کرنے کا اعلان

حماس سے مستقبل کی کوئی بھی بات چیت آگ تلے ہوگی، تمام اہداف کے حصول تک لڑائی جاری رکھیں گے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ نئی پیش رفت میں اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے وسط اور جنوب میں زمینی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا۔ غزہ کے شمال سے جنوب کی طرف نقل و حرکت کی اجازت صرف الرشید روڈ کے ذریعے ہے۔

جمعرات کی صبح اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال سے جنوب تک پھیلی ہوئی مرکزی سڑک صلاح الدین محور پر نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ اس نے گزشتہ روز فلسطینی پٹی میں مخصوص زمینی فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

فوج کے ترجمان ادرائی نے ’’ ایکس‘‘ پر کہا کہ گزشتہ گھنٹوں کے دوران آئی ڈی ایف فورسز نے وسطی اور جنوبی غزہ کی پٹی کے علاقے میں ایک مخصوص زمینی آپریشن شروع کیا جس کا مقصد غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب کے درمیان دفاعی زون کو پھیلانا ہے۔ اپنی حفاظت کے لیے غزہ کے شمال اور جنوب کے درمیان صلاح الدین محور پر نقل و حرکت جاری ہے۔ اسرائیلی فوج نے نٹساریم محور کے مرکز میں اپنی افواج کی تعیناتی کا اعلان کیا اور کہا ہے ہم شمالی اور جنوبی غزہ کے درمیان سیکیورٹی زون کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے کہا ہے ہمارے لوگوں کے خلاف جارحیت کو روکنے کے لیے ثالثوں کے ساتھ بات چیت جاری ہےاسرائیل کو معاہدے سے منسلک کرنے اور اسے اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

القانوع نے جمعرات کو فلسطینی خیر ایجنسی ’’ صفا‘‘ کی طرف سے رپورٹ کردہ ایک پریس بیان میں مزید کہا کہ ہم جنگ بندی کے معاہدے کے پابند ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کو جنگ اور غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے انخلا سے مستقل طور پر بچانے کے لیے ثالثوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ کا محاصرہ، اس کی بھوک اور وہاں کی تباہی کی جنگ کے لیے عرب ریاستوں کی لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے فوری اقدام کی ضرورت ہے تاکہ اپنے لوگوں کو نسل کشی سے بچایا جا سکے، ان کی بھوک کو روکا جا سکے اور ان پر سے محاصرہ ختم کیا جا سکے۔

جمعرات کی صبح پٹی کے مکینوں کو حتمی الٹی میٹم جاری کرنے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر نئے حملے شروع کردیے ہیں۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ غزہ پر جمعرات کی صبح سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 71 ہو گئی ہے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ خان یونس میں بمباری سے نشانہ بنائے گئے گھروں کے ملبے تلے لاپتہ افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی طیاروں نے شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیا کے علاقے پر حملہ کیا تاہم فوری طور پر انسانی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے جمعرات کو کہا کہ ایجنسی کے پانچ ملازمین گزشتہ چند دنوں میں غزہ کی پٹی میں مارے گئے ہیں۔ انہوں نے ’’ ایکس‘‘ پر کہا کہ گزشتہ دنوں میں ہم نے انروا کے مزید پانچ ملازمین کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اس طرح جنگ میں مرنے والے ہمارے کارکنوں کی تعداد 284 ہو گئی ہے۔

شمالی فلسطینی پٹی میں خونریز اسرائیلی بمباری سے بچنے کے لیےخاندانوں نے اپنا نقل مکانی کا سفر دوبارہ شروع کردیا ہے۔ اس سے قبل وہ کئی مرتبہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ دریں اثناء اسرائیلی طیاروں نے شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیا کے علاقے پر بھی حملہ کیا ہے۔

غزہ میں وزارت صحت نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ شدید اور مسلسل اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مسلسل دوسرے روز بھی مرنے والوں کی تعداد 436 ہو گئی ہے۔ شہید ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر 2023 کو جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 49547 ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں