مجرمانہ تنظیم ، رشوت اور بد عنوانی ... اولو پر الزامات نے استنبول کو مشتعل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترکیہ کے شہر استنبول میں اتوار کی شب بھرپور عوامی احتجاج کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔ یہ احتجاج شہر کے میئر اکرم امام اولو کی جیل منتقلی کے بعد شروع ہوئے۔ اس دوران میں سیکورٹی فورسز اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اولو پر عدالتی الزامات کیا ہیں؟

امام اولو پر بدھ کی صبح "بد عنوانی" اور "دہشت گرد تنظیم کی سپورٹ" کے الزامات عائد کیے گئے۔ اولو کی جماعت نے کردوں کی حامی ایک جماعت کے ساتھ انتخابی معاہدہ کیا تھا۔ اس جماعت پر ترک حکام کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ وابستگی کا الزام عائد کرتے ہیں جس کو انقرہ ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔

عدالتی فیصلے میں اولو کو جیل بھیجنے کی وجوہات بیان کی گئیں۔ اس میں کہا گیا کہ "مشتبہ اکرم امام اولو کو ایک مجرمانہ تنظیم کی تاسیس اور قیادت ، رشوت قبول کرنے، بد عنوانی، ذاتی معلومات کا غیر قانونی اندراج اور ٹینڈروں میں ہیرا پھیری کے الزامات میں قید میں لیا گیا ہے۔"

استنبول یونیورسٹی نے گذشتہ منگل کو امام اولو کے حراست میں لیے جانے سے چند گھنٹے قبل ان کی ڈگری منسوخ کر دی تھی۔ اس طرح صدارتی انتخابات میں ان کی نامزدگی کے سامنے ایک اور رکاوٹ کھڑی ہو گئی ہے۔ اس لیے کہ ترکیہ کا آئین اس بات کو لازم قرار دیتا ہے کہ صدارتی انتخابات میں نامزدگی کے لیے امیدوار کو اعلی تعلیم یافتہ ہونا چاہیے۔

میں نہیں جھکوں گا

اولو نے زور دیا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی دباؤ کے سامنے جھکیں گے۔ انہوں نے کہا "میں ثابت قدم اور مضبوط رہوں گا اور جھکوں گا نہیں"۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اس عمل کو منظم کیا ہے ان کا محاسبہ کیا جائے گا۔ اولو کے مطابق ترکیہ کو آج بد دیانتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ عدالتی کارروائی "غیر منصفانہ" ہے۔

ایردوآن کے سیاسی حریف

واضح رہے گرفتار ہونے والوں میں اوگلو کے علاوہ میونسپلٹی سے منسلک میڈیا کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین مرات اونگون اور استنبول پلاننگ ایجنسی کے چیئرمین بگرا گوکس اور دیگر افراد بھی شامل ہیں۔ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت اور یورپی رہنماؤں نے صدر ایردوان کے اہم ترین سیاسی حریف کے خلاف ان اقدامات کو سیاسی بنیادوں پر قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

چھٹی تفتیش

واضح رہے کہ مارچ 2019 میں پہلی بار میئر منتخب ہونے کے بعد سے استنبول کے 53 سالہ میئر کے خلاف یہ چھٹی اور دو ماہ سے بھی کم عرصے میں تیسری تحقیقات ہیں۔ اکرم اولو نے اس وقت شہرت حاصل کی تھی جب انہوں نے جون 2019 میں الیکشن جیت کر استنبول کے میئر کے لیے ایردوان کے امیدوار کو بے دخل کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ 1.6 کروڑ آبادی والا استنبول ترکی کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کا میئر بننے کے بعد امام اولو حکمراں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی اور صدر ایردوآن کا ہدف بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں