ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں: بعض یورپی باشندوں کی امریکہ کے سفر پر نظرِ ثانی

گرین لینڈ کا معاملہ، سخت ویزا اور امیگریشن پالیسی بنیادی وجوہات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

ڈنمارک کے سیاح کینیٹ براسک کو دو سال قبل ماہی گیری کے لیے فلوریڈا کا سفر کرنا پسند تھا اور وہ اس سال دوبارہ آنے کا ارادہ کر رہے تھے۔ لیکن وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ولادیمیر زیلینسکی سے دھماکہ خیز ملاقات دیکھنے کے بعد انہوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔

براسک نے رائٹرز کو بتایا، "جب میں نے یہ ملاقات دیکھی تو خود سے کہا، 'میں اس وقت تک کبھی بھی امریکہ نہیں جاؤں گا جب تک جناب ٹرمپ وہاں کے صدر ہیں۔'" انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ "بہت بدلحاظ" تھے اور انہوں نے بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کیا۔

امریکہ کے بجائے وہ میکسیکو جائیں گے۔

برصغیر کے پانچ ٹریول ایجنٹس کے مطابق براسک ان متعدد یورپی باشندوں میں سے ایک ہے جو ٹرمپ کے اقدامات کے نتیجے میں سفری منصوبوں پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں۔

صرف دو مہینوں میں صدر نے یورپ کے ساتھ امریکہ کا دیرینہ اتحاد ختم کر دیا، گرین لینڈ کے الحاق کی بات کی، عالمی تجارتی جنگ کا آغاز کیا اور ایسے احکامات جاری کیے جو سخت سرحدی پالیسی، ویزا کی جانچ کے سخت طریقہ کار اور امریکہ میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن پر مرکوز ہیں۔

یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں یوروپیوں نے امریکہ کے سفر پر 155 بلین ڈالر خرچ کر ڈالے جبکہ بحرِ اوقیانوس کے دوںوں جانب سفر سے حالیہ سہ ماہیوں کے دوران برٹش ایئرویز جیسی ایئر لائنز کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی نیشنل ٹریول اینڈ ٹورازم آفس (این ٹی ٹی او) کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق فروری میں مغربی یورپ سے امریکہ آنے والوں کی تعداد میں سال بہ سال ایک فیصد کمی واقع ہوئی جس میں گذشتہ سال کی اسی مدت میں 14 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اس وجہ سلووینیا سے آنے والے مسافروں میں 26 فیصد کمی آئی اور اس کے بعد سوئٹزرلینڈ اور بیلجیم کا نمبر آتا ہے۔

ڈنمارک کے خود مختار علاقے گرین لینڈ پر ٹرمپ کی بیان بازی ملک کے باشندوں کے لیے خاصا حساس مسئلہ رہا ہے۔ ایک ڈین باشندے کم کوگل سورنسن نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے اپنے خاندانی دوست کی شادی کے لیے کیلیفورنیا کا دورہ منسوخ کر دیا اور اپنے ایک ٹیٹو سے ستارے اور دھاریاں ہٹا دیں تاکہ وہ امریکہ کے حامی نہ لگیں۔

این ٹی ٹی او کے اعداد و شمار کے مطابق فروری میں ڈنمارک سے امریکی آمد میں چھے فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ ایک سال قبل سات فیصد اضافہ ہوا تھا۔

یورپی ٹریول ایجنٹس اور ٹریول ڈیٹا فرمز نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ امریکہ کے دوروں کی تلاش میں بھی کمی دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ دیگر مقامات کے لیے اشتہارات دینے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

کوپن ہیگن میں البرٹوز ٹریول کے ایک سینئر پروڈکٹ مینیجر Steen Albrechtsen نے کہا، "ہم نے غور کرنے کے بعد امریکہ کے کسی بھی دورے کے لیے مارکیٹنگ پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی وجہ گاہکوں کی دلچسپی میں کمی اور خاص طور پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حوالے سے موجودہ صورتِ حال اور رویہ ہیں۔"

یو ایس ٹریول ایسوسی ایشن کے مطابق بیرون ملک مقیم سیاح اندرونِ ملک امریکی مسافروں کے مقابلے میں سات سے آٹھ گنا زیادہ خرچ کرتے ہیں۔

ڈالر کا استحکام اور سست یورپی معیشت بھی بعض لوگوں کو امریکی دوروں سے روک سکتی ہے حالانکہ ٹریول ایجنٹس کہتے ہیں کہ سیاسی ہنگامہ آرائی کا سب سے زیادہ اثر ہو رہا تھا۔

سیاحت کا ڈیٹا فراہم کرنے والی ڈیٹا اپیل کمپنی کے سی ای او میرکو لالی نے کہا کہ فرانس، اٹلی اور اسپین میں رواں ماہ امریکہ کے لیے پروازوں کی تلاش میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ سے طلب کافی ہے۔

کینیڈا سے قربت

جرمن ٹریول ایجنسی امریکہ اَن لمیٹیذ نے کہا، جرمن باشندوں کی نگاہیں خاص طور پر متبادل کے طور پر کینیڈا پر مرکوز ہو رہی ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو 51 ویں ریاست میں تبدیل کرنے کی دھمکیوں کے ساتھ بعض یورپی باشندے وہاں تعطیلات منانے کو یکجہتی کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

امریکہ اَن لمیٹیذ کے سی ای او ٹیمو کوہلن برگ نے کہا، "کینیڈا ایک بے مثال اضافے کے تجربے سے گذر رہا ہے۔

بدلے میں کینیڈین اس موسم گرما میں یورپ کا رخ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ امریکہ کا سفر ترک کر دیں گے۔

قلیل مدتی کرایہ داری کا تجزیہ کرنے والی کمپنی Key Data کے مطابق تعطیلات کے لیے یورپ میں کرائے کے مکانات میں جون سے اگست تک کینیڈا کے باشندوں کی جانب سے سال بہ سال بکنگ میں 32 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دیگر ٹریول کمپنیاں مثلاً یورپ کے سب سے بڑے ٹور آپریٹر ٹی یو آئی کو اب بھی امریکی مارکیٹ کو برقرار رکھنے کی توقع ہے خاص طور پر شہر کے دوروں اور کیمپنگ ٹورز کے لیے۔

ٹی یو آئی کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا، "ہم توقع کر رہے ہیں کہ جرمنی سے 2024 کے مقابلے میں زیادہ مسافر امریکہ میں چھٹیاں گذاریں گے۔"

این ٹی ٹی او کے مطابق فروری میں جرمنی کے امریکہ کے دوروں میں سال بہ سال نو فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ ایک سال پہلے کی اسی مدت میں 18 فیصد اضافہ ہوا۔

ملک کے داخلے کے قوانین پر زور دینے کے لیے برطانیہ اور جرمنی نے امریکہ جانے والے شہریوں کے لیے اپنی ہدایات اپ ڈیٹ کی ہیں۔

جرمن وزارتِ خارجہ نے کہا، وہ اس بات کی نگرانی کر رہی ہے کہ آیا تین شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد امریکی امیگریشن پالیسی میں کوئی تبدیلی ہوئی یا نہیں۔

شوماکر، لوپ اینڈ کینڈرک، ایل ایل پی کی پارٹنر اور امیگریشن اٹارنی ماریا ڈیل کارمین راموس نے کہا، امریکی سرحد پر آنے والے لوگوں کی زیادہ جانچ پڑتال ہو رہی ہے لیکن سرحدی گشت کرنے والے ایجنٹس کے پاس لوگوں کی سمجھ سے زیادہ صوابدید اور اختیار ہے۔

انہوں نے کہا، "ایسا لگتا ہے کہ یہ سرحد پر امریکی علاقہ ہے اور اس بات کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ چیزیں کیسے ہو رہی ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں