روس اور امریکہ کے درمیان بات چیت دشوار تاہم مفید ہے۔ اضافی بات چیت میں اقوام متحدہ اور دیگر ممالک بھی شامل ہوں گے۔ یہ بات "ٹاس" نیوز ایجنسی نے روسی مذاکراتی وفد میں شریک رکن گریگری کارسین نے بتائی۔
کارسین جو روسی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے رکن ہیں۔ انھوں نے کہا کہ "ہم ہر چیز زیر بحث لا رہے ہیں، یہ ایک بھرپور اور دشوار بات چیت رہی تاہم یہ ہمارے اور امریکیوں کے لیے بہت فائدہ مند تھی"۔
کارسین کے مطابق پیر کے روز ریاض میں امریکی نمائندوں کے ساتھ مشاورت میں بہت سے امور پر بات چیت ہوئی۔
روسی وزارت خارجہ نے ریاض میں یوکرین کے حوالے س روسی اور امریکی فنی کمیٹیوں کے بند کمرے کی بات چیت اختتام پذیر ہونے کا اعلان کیا۔ وزارت نے واضح کیا کہ کرملن اور وائٹ ہاؤس اس حوالے سے ایک مشترکہ بیان جاری کریں گے۔
روسی میڈیا کے مطابق بات چیت 12 گھنٹے جاری رہی۔ بعد ازاں کئیف اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا ایک دور ہوا۔
مذاکرات کا مقصد یوکرین میں جنگ کا خاتمہ ہے۔ آج منگل کے روز سعودی دار الحکومت ریاض میں یوکرین اور امریکہ کے اعلی سطح کے وفد ملاقات کر رہے ہیں۔ ملاقات میں کئیف اور ماسکو کے بیچ فائر بندی تجویز کے حوالے سے روسی امریکی مذاکرات کی جان کاری لی جائے گی۔
واشنگٹن نے پیر کے روز روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں کہا ہے کہ یہ تین برس سے جاری جنگ ختم کرانے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کا ایک اقدام ہے۔
روس نے گذشتہ ہفتے ٹرمپ کی جانب سے یوکرین میں 30 روز کی فائر بندی کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ ماسکو صرف یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر عارضی طور پر حملے روک دینے پر آمادہ ہوا۔
ٹرمپ نے کل پیر کے روز دیگر امور پر روشنی ڈالی جو ان کے مطابق مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "ہم اس وقت (یوکرین کی) اراضی کی بات کر رہے ہیں۔ ہم سرحدی بندی، توانائی اور توانائی اسٹیشنوں کی ملکیت کی بات کر رہے ہیں"۔