اونٹوں کی تجارت اور دودھ کی فروخت میں مہارت ، نائیجر کی خاتون نے رسم توڑی دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک ایسے قدامت پسند معاشرے میں جو پرانے رواجوں کے مطابق عورت کو روایتی کرداروں میں محدود رکھتا ہو اور جہاں مال کے حصول اور بڑے منصوبوں کے حوالے سے عورت کی حوصلہ افزائی نہ کی جاتی ہو ... نائیجر کی خاتون وورو حبساتو ابوبکر نے اس رسم کو توڑا اور ایسے شعبے میں کامیابی کو یقینی بنایا جس پر مردوں کا غلبہ رہتا ہے۔

جی ہاں ... وورو اس وقت 200 سے زیادہ اونٹوں اور اونٹنیوں کی مالک ہے۔ ان سے روزانہ 160 سے 180 لیٹر دودھ کی پیداوار ہوتی ہے۔ وورو کے تجارتی منصوبے نائیجر میں غذائی امن اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس نے اونٹنی کے دودھ کی پیداوار اور فروخت کے شعبے میں اچھے نتائج حاصل کیے ہیں۔

وورو زراعت کے سیکٹر میں کامیاب افریقی خاتون کے لیے ایک ماڈل ہے۔ طویل عرصے سے کوششوں کے باوجود اس سیکٹر میں عورت کو وہ مقام نہ ملا جس کی وہ مستحق ہے۔ البتہ وورو نے صبر و استقامت کے ساتھ تمام چیلنجوں کو کامیابی سے عبور کیا۔ اس نے 2011 میں اپنی نجی کمپنی "حبساتو" قائم کی۔
وورو کے لیے روایتی ماحول اور ایک ایسے ملک میں اس کام کا آغاز آسان نہیں تھا جہاں تقریبا 87% فعال آبادی مویشیوں کی پرورش کرتی ہے، خواہ وہ بنیادی سرگرمی ہو یا زراعت کے بعد ثانوی سرگرمی ... اس کا مطلب ہے کہ اکثریت کے پاس دودھ کا ایک ایسا ذریعہ دستیاب ہے جو انھیں اس کے خریدنے کی ضرورت سے بچاتا ہے۔

وورو اپنے منصوبے کی ابتدا کے بارے میں کہتی ہے کہ "مشکل اس بات میں تھی کہ معاشرتی روایات کے مطابق جو شخص اونٹ کا دودھ بیچتا ہے، اسے ناپسندیدہ کام کرنے والا سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے مجھے خاندان کے افراد کی جانب سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔"

تاہم اب وورو کئی سالوں کی محنت اور صبر کے بعد اس کے نتائج حاصل کر رہی ہے۔ ان سالوں کے دوران میں وہ بہت سے نوجوانوں اور خاندانوں کی مدد کرنے میں کامیاب ہوئی جنھوں نے اونٹ کے دودھ کی تجارت شروع کی اور نئے بازار کھولے۔

وورو نے دودھ کی پیداوار کا منصوبہ تقریبا تیس اونٹنیوں کے ساتھ شروع کیا تھا جو وورو کے خاندان کی ملکیت تھیں۔ بعد ازاں پھر اس نے اپنی نجی کمپنی قائم کر لی۔ وورو نے ثابت کر دیا کہ نائیجر کی عورت زرعی سیکٹر میں کامیابی کے ساتھ بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔

وورو کی پرورش دیہی ماحول میں ہوئی جہاں اس نے بچپن سے ہی مویشی چرانے، ان کی دیکھ بھال، دودھ دوہنے، اسے محفوظ کرنے اور دودھ سے دیگر چیزیں نکالنے کے کام سیکھ لیے۔

بعد ازاں وورو نے اونٹ کا دودھ فروخت کرنے کے کام کا رخ کیا اور اسے نفع بخش تجارت میں تبدیل کر دیا۔ اس طرح اس نے اپنے خاندان کی ضروریات کو پورا کیا اور ان کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں