چین کی ایک ٹکنالوجی کمپنی کے زیر انتظام ایک خفیہ نیٹ ورک ان امریکی سرکاری ملازمین کو لالچ دے کر کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے جنھیں حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ نے ملازمتوں سے برخاست کیا ہے۔
ایک امریکی سینئر تجزیہ کار میکس لیسر کے مطابق ملازمت کے اشتہارات شائع کرنے والی کچھ کمپنیاں "سابقہ سرکاری ملازمین اور مصنوعی ذہانت کے محققین کو نشانہ بنانے والی جعلی مشاورتی اور بھرتی فرموں کے وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔
ان چار مشاورتی اور بھرتی کمپنیوں کے بارے میں کافی معلومات دستیاب نہیں ہیں جو اس نیٹ ورک میں شامل سمجھی جاتی ہیں۔
ان چاروں کمپنیوں کی ویب سائٹیں انٹرنیٹ کا ایک ہی پروٹوکول ایڈریس استعمال کرتی ہیں۔ یہ ایک منفرد نمبر ہے جو انٹرنیٹ سے متصل ہونے والے ہر آلے کی شناخت کرتا ہے۔ اسی طرح 'سماؤ انٹیلی جنس" کمپنی کی ویب سائٹ بھی کرتی ہے۔
ایک غیر ملکی نیوز ایجنسی کی جانب سے چاروں کمپنیوں اور سماؤ انٹیلی جنس کا سراغ لگانے کی کئی طریقے سے کی گئی کوششوں کو ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ فون کال اور ای میل پر جواب موصول نہیں ہوتا جب کہ ایسے پتے دیے گئے ہیں جو خالی جگہوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقبول جاب سائٹ LinkedIn سے نوکریوں کی فہرستیں حذف کر دی گئی ہیں۔
لیسر کے مطابق جو چیز اس سرگرمی کو اہم بناتی ہے وہ نیٹ ورک کی جانب سے ان سابق امریکی وفاقی ملازمین کی مالی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے جو حال ہی میں بڑے پیمانے پر برطرفی سے متاثر ہوئے تھے۔
روئٹرز نیوز ایجنسی کو اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ آیا یہ کمپنیاں چینی حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں یا پھر کوئی سابق امریکی وفاقی ملازم کی بھرتی عمل میں آئی ہے۔