غزہ سے انیس لاکھ فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کیا گیا:انروا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) نے اعلان کیا ہے کہ تقریباً 19 ملین باشندوں کو جن میں بچے بھی شامل ہیں کو زبردستی بے گھر کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزی نے نقل مکانی کی ایک اور لہر کو جنم دیا ہےجس سے 142,000 سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے 18 مارچ کو غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کیں۔ اس سال جنوری میں طے پانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علاقے کے خلاف شدید حملے شروع کر دیے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے وضاحت کی فوجی کارروائی’حماس‘ کی طرف سے ثالثوں اور امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیون وٹ کوف کی طرف سے مذاکرات کے دوران پیش کی گئی تجاویز کو مسترد کرنے کے نتیجے میں کی گئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں آپریشن کا مقصد تمام یرغمالیوں کو آزاد کرانا ہے۔

دوسری جانب ’حماس‘ نے اسرائیل اور امریکہ کو فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

"قیدیوں کی رہائی "

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے کل اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج جنوبی غزہ کی پٹی میں ایک نئے قائم کردہ سکیورٹی کوریڈور میں تعینات ہیں۔

جبکہ نیتن یاہو نے چند روز قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اس نئے "موراج" کوریڈور کے قیام اور وہاں پر فوج کی تعیناتی کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ غزہ کے جنوب میں واقع شہر رفح کو باقی پٹی سے الگ کر دے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے گذشتہ بدھ کو واضح طور پر اعلان کیا کہ راہداریوں کا مقصد "غزہ کی پٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور بتدریج حماس پر اسرائیلی قیدیوں کے حوالے کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے"۔

قبل ازیں حماس نے کہا ہے کہ جمعہ کو اعلان کیا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ان علاقوں کو خالی کرنے کی درخواست کی ہے جہاں قیدیوں کو رکھا گیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ انہیں ان سے منتقل نہیں کرے گا۔

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان نے وضاحت کی کہ بقیہ قیدیوں میں سے نصف ایسے علاقوں میں ہیں جنہیں اسرائیلی فوج نے حالیہ دنوں میں خالی کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو قیدیوں کی زندگیوں کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا "اگر اسے ان کے بارے میں فکر ہوتی تو وہ جنوری میں کیے گئے معاہدے کی پاسداری کرتے۔ ان میں سے زیادہ تر آج اپنے گھروں میں ہوتے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں