شہزادہ ہیری نے منگل کے روز لندن کی اپیل کورٹ میں حکومت کی جانب سے ان کی مالی اعانت فراہم کرنے والی ذاتی سکیورٹی کی تفصیلات سے محروم کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔
شہزادہ ہیری اپنا کیس کورٹ آف اپیل میں لے کر پہنچے جہاں انہوں نے برطانیہ میں اپنی ذاتی سکیورٹی کی واپسی کا مطالبہ کیا۔
شہزادہ ہیری جن کے پاس ڈیوک آف سسیکس سمیت دیگر القابات ہیں فروری 2020 میں شاہی خاندان کے ایک ورکنگ ممبر کی حیثیت سے سبکدوش ہونے اور ریاستہائے متحدہ چلے جانے کے بعد اپنا حکومتی فنڈ سے تحفظ سے محروم ہو گئے۔
شہزادہ ہیری نے ماتحت عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جس نے شہزادے کو اپنی ذاتی حفاظتی تفصیلات سے محروم کرنے کے حکومتی فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
پچھلے سال لندن میں ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ حکومتی کمیٹی کا ہیری کو ضرورت پڑنے پر "ایڈہاک" تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ غیر قانونی، غیر معقول یا غیر منصفانہ نہیں تھا۔
ہیری نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر مسلسل ہراساں کیے جانے کی وجہ سے وہ اور ان کی اہلیہ میگھن ڈچس آف سسیکس کے خلاف دشمنی کی وجہ سے اپنے وطن جانے سے گریزاں ہیں۔
شاہ چارلس سوم کے چھوٹے بیٹے 40 سالہ ہیری نے حکومت اور ٹیبلوئڈز پر مقدمہ کر کے شاہی روایت کو توڑا۔
-
اسرائیل کی برطانیہ کے دو ارکانِ پارلیمان کی حراست ’ناقابلِ قبول‘ ہے: برطانیہ
آج رات دونوں ممبران سے رابطے میں ہیں: وزیرِ خارجہ
بين الاقوامى -
اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والے برطانوی فوجیوں پر غزہ میں جنگی جرائم کا الزام
شکایت میٹروپولیٹن پولیس کو کی جائے گی
مشرق وسطی -
غزہ جنگ برطانیہ میں مسلمانوں کی ’تنہائی‘ کا باعث بن رہی ہے: رابطہ عالمِ اسلامی
ہم آہنگی برطانیہ کے لیے قومی سلامتی کا مسئلہ ہے: محمد بن عبدالکریم العیسیٰ
بين الاقوامى