غزہ جنگ ،عراقی جنگ کی طرح انکوائری کرائی جائے: برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

برطانوی پارلیمنٹ کے 37 ارکان نے وزیر اعظم کیر سٹارمر کے نام لکھے گئے خط مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی جنگ میں برطانوی کردار کے بارے میں عراقی جنگ میں برطانوی کردار کے بارے میں کرائی گئی انکوائری کی طرح کی انکوائری کرائی جائے۔

برطانوی پارلیمنتٹ کے اس گروپ کے تحریر کردہ خط پر جریمی کوربین کے دستخط بھی شامل ہیں۔ یہ بات سکائی نیوز نے بدھ کے روز رپورٹ کی ہے۔

غزہ جنگ میں برطانوی کردار کی تحقیقات کے اس مطالبے پر دستخط کرنے والوں میں دس ارکان کا تعلق لیبر پارٹی سے ہے۔ ان میں لیبر پارٹی کے سابق رہنما جیریمی کوربین کے دستخط بھی شامل ہیں۔

جیریمی کوربین نے ایک جامع انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا اس تحقیقات کرنے والوں کو مکمل قانونی اختیار دیا جائے کہ وہ سچ سامنے لا سکیں۔ نیز ایسی جنگ کے حقائق سامنے آسکیں جس کے دوران عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد کے ساتھ 50000 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی زمہ داری کا تعین ہو سکے۔

برطانیہ کے اراکین پارلیمنٹ نے یہ مطالبہ اس وقت کیا ہے جب اسرائیل نے لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو برطانوی ایم پیز کو فلسطینی علاقوں میں جانے سے روکا اور واپس برطانیہ ڈی پورٹ کر دیا۔ یہ ایم اپیز ایک پارلیمانی وفد کے ساتھ گئے تھے۔

واضح رہے لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے ابتسام محمد اور یون یانگ نے اسرائیل پہنچنے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانی بنیادوں پر شروع کیے گئے منصوبوں کو دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن اسرائیل نے مغربی کنارے کی طرف جانے سے روک دیا تھا۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی اسرائیل کی طرف سے ایم پیز کو ڈی پورٹ کیے جانے کے فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ یہ سلوک کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

سکاٹ لینڈ سے نیشنل پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ پلیڈ سمرو اور سن فین نے بھی دستخط کیے ہیں۔ خط پر دارالامرا کے ارکان نے بھی دستخط کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ جیٹ طیاروں ایف 35 اسرائیل کے لیے پرزے مسلسل فراہم کرنے کے بارے میں جواب مانگتے رہیں گے۔ نیز برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال اور نسل کشی کی قانونی تعریف کے بارے میں مسلسل سوال اٹھاتے رہیں گے۔

کوربن نے مزید کہا برطانوی حکومت نے جن طریقوں سے حکومت نے جن طریقوں سے اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں، ان طریقوں کی وجہ سے عوام کو اندھیرے میں چھوڑا جارہا ہے۔

انہوں نے انتباہ کیا ہماری تاریک خطرے سے دوچار ہے، اس خطرے کو دہرایا جارہا ہے۔ یہ بالکل یہ عراقی جنگ میں اد کیے گئے کرادر کی طرح کی صورت حال ہے۔ جس کے بارے میں 2016 میں چلکوٹ نے اپنی رپورٹ شائع کی تھی۔ اگرچہ اس میں کافی تاخیر ہوئی تھی۔

جیریمی کوربین نے کہا 'اس لیے ضروری ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے کے لیے فیصلوں اور اقدامات کے پس منظراور مضمرات کو انکائری میں دیکھا جائے۔'اس مقصد کے لیے با معنی انکوائری کے لیے حکومتی وزیر وں کی طرف سے تعاون کیا جانا چاہیے۔ '

لیبر پارٹی کے سابق رہنما نے کہا' بہت سے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔' لہذا ضروری ہے کہ ان الزامات کی جامع انکوائری کی جائے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں