پاکستان : افغان شہریوں کو پناہ دینے والےملک 30 اپریل تک انہیں اپنے ہاں منتقل اور آباد کریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے تعلق رکھنے والے والے ان ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جن ملکوں نے افغان شہریوں کو اپنے ہاں بسانے کا اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اس عمل کو تیز کریں۔ تاکہ 30 اپریل تک افغان شہریوں کی آباد کاری کا عمل متعلقہ میزبان ملکوں میں مکمل ہو سکے۔

خیال رہے یہ افغان شہری جنہیں پاکستان نے مختلف ملکوں اور بین الاقوامی برادری کی درخواست پر عارضی بنیادوں پر ٹھہرنے کی اجازات دے رکھی ہے، انہیں اب اپنے نئے میزبان ملکوں میں جانا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اس عمل کو اب تیز کیا جائے۔

پاکستان کی طرف سے یہ مطالبہ جمعرات کے روز سامنے آیا ہے۔ پاکستان میں یہ افغان شہری ہزاروں کی تعداد میں عارضی اجازت کی بنیاد پر رکے ہوئے ہیں۔ اگر متعلقہ میزبان ملکوں نے انہیں 30 اپریل سے پہلے اپنے ہاں لے جانے اور بسانے کی کوششیں تیز نہ کیں تو پاکستان کے حکام انہیں جبری انخلا کے لیے کہہ سکتے ہیں ۔

پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی برادری کے لیے یہ مطالبہ وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ جو ان افغان شہریوں کو پاکستان میں عارضی پناہ دینے کے لیے کہتا رہا ہے اس نے حال ہی میں اپنے ہاں پناہ گزینوں کی آمد کے پروگرام کو معطل کر دیا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت اس طرح کے افغان شہری جنہیں پاکستان ہر صورت 30 اپریل تک چھوڑنا ہے کی تعداد 25 ہزار سے زائد ہے۔

طلال چوہدری نے اشارہ دیا کہ پاکستان 30 اپریل کے بعد ان افغان شہریوں کو کسی صورت مزید رکنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اس لیے ان کے ممکنہ میزبان ملکوں کو چاہیے کہ وہ انہیں اب اپنے پاس لے جائیں اور ان کی آباد کاری کا اہتمام کریں۔

اس اعلان سے ان افغان شہریوں کے لیے بے چینی میں مزید اضافہ ہو گا ، جو طالبان کی حکومت کے خوف کی وجہ سے افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان اور دوسرے ملکوں میں جانے کی کوشش میں یہاں پہنچے تھے۔ طالبان کابل سے امریکی فوج کے اچانک انخلا کے بعد 15 اگست 2021 سے افغانستان کے حکمران کے طور پر موجود ہیں۔

ان افغان شہریوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے امریکی فوج میں کام کیا ہے یا امریکہ کے لیے مخبری کا کام کرتے رہے ہیں۔ بہت سے امریکی اور مغربی ملکوں کی 'فنڈڈ این جی اوز 'سے وابستہ رہ کر طالبان حکومت کے خلاف ایجنڈا آگے بڑھاتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں