صحرا میں سائبر ٹرک: ٹیسلا نے سعودی عرب میں گاڑیوں کی فروخت شروع کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ٹیسلا نے جمعرات سے سعودی عرب میں گاڑیوں کی فروخت کا آغاز کر دیا جو اس بات کی علامت ہے کہ برقی گاڑیوں کی فروخت کی سعودی پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے۔

برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی نے باضابطہ طور پر کاروبار شروع کیا تو ایک کھجور کے درختوں سے گھرے ایک پلازا میں ٹیسلا سائبر ٹرک اور ایک نئی ڈیزائن کردہ ماڈل وائے سیڈان لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔

لوگوں کی ایک مختصر تعداد نے گاڑیوں کو آزمایا اور ایک بڑی بیرونی ویڈیو سکرین پر ایک سائبر ٹرک کو ایک مٹیالے رنگ کے صحرا سے گذرتے اور ریت کے بادل چھوڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ٹیسلا کو عالمی سطح پر نئے صارفین کی ضرورت ہے۔ اس کی پہلی سہ ماہی کی فروخت میں 13 فیصد کمی ہوئی جو تقریباً تین سالوں میں اس کی کمزور ترین کارکردگی ہے جس کی وجہ ٹرمپ انتظامیہ میں مسک کے کردار کے خلاف ردِ عمل، بڑھتی ہوئی مسابقت اور تازہ ترین ماڈل وائے کے علاوہ پرانی ہوتی ہوئی مصنوعات ہیں۔

ٹیسلا کی حریف لیوسڈ کی ایک بڑی سرمایہ کار کمپنی دی کنگڈم اب سے پانچ سال بعد 30 فیصد برقی گاڑیاں اپنانے کا ارادہ رکھتی ہے جو گذشتہ سال سے تقریباً ایک فیصد زیادہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اولین غیر ملکی دورے پر آئندہ ہفتوں میں سعودی عرب آنے والے ہیں۔ لانچ کے موقع پر ٹیسلا کے مقامی سربراہان نے گاڑیوں کے آن لائن آرڈر، مالز میں پاپ اپ سٹورز کھولنے اور سپر چارجر سٹیشنز اور سروس سینٹرز بنانے کے منصوبوں کی وضاحت کی لیکن ایلون مسک ذاتی طور پر یا ویڈیو کے ذریعے موقع پر وارد نہیں ہوئے۔

سائبر ٹرک کے دلدادہ ایک مداح محمد اسامہ نے کہا، "میں واقعی بہت مایوس ہوں کہ میں ان سے نہیں مل سکا۔ میں سٹیج کے بہت قریب تھا لیکن بدقسمتی سے وہ نہیں آئے۔"

سعودی مملکت کو برقی گاڑیوں کے اہداف حاصل کرنے کے لیے بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔

ملک کی مرکزی مشرقی-مغربی شاہراہ پر ریاض اور مکہ کے مالیاتی اور مذہبی مراکز کو ملانے والے 900 کلومیٹر (559 میل) حصے میں ایک بھی برقی چارجنگ سٹیشن نہیں ہے۔ الیکٹرومپس پر مبنی سٹیٹسٹا کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں 2024 میں صرف 101 برقی چارجنگ سٹیشنز تھے جبکہ ہمسایہ ملک متحدہ عرب امارات میں یہ تعداد 261 تھی جو ایک تہائی آبادی والا ملک ہے۔

ٹیسلا تین شہروں میں اپنے ابتدائی چارجنگ سٹیشنز لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

برقی گاڑیوں کے حریف برانڈز مثلاً چین کے بی وائی ڈی اور ذیکر سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی حمایت یافتہ لیوسڈ کے ساتھ پہلے ہی سعودی مملکت میں موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں