العربیہ نیوز کے ذرائع کے مطابق امریکہ نے وساطت کاروں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے گا تا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کی نئی تجویز قبول کر لے، جہاں وساطت کار اور امریکا رواں ماہ کے اختتام سے قبل کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی طرح مذکورہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وساطت کار فائر بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو وضع کرنے کے مرحلے میں ہیں۔ اس معاہدے میں قیدیوں کی رہائی دو مرحلوں پر مشتمل ہو گی۔ اس کے علاوہ امداد کے داخلے اور سرحدی گزر گاہوں کو کھولا جانا بھی شامل ہو گا۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ غزہ میں حماس کی قیادت کے باقی رہنے کا معاملہ اگلے مرحلے میں زیر بحث آئے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز امریکی CIA کے نئے سربراہ جون ریٹکلف سے بیت المقدس میں ملاقات کی۔ یہ بات نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں بتائی گئی۔
ملاقات میں دونوں شخصیات نے بتایا کہ غزہ میں حماس کے پاس موجود مزید قیدیوں کی رہائی کے مقصد سے نئے مذاکرات کی تیاری جاری ہے۔
امریکا، قطر اور مصر کے توسط سے 19 جنوری کو فائر بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ نافذ العمل ہوا تھا۔ یہ فائر بندی 18 مارچ تک جاری رہی جس کے بعد اسرائیل غزہ پر بم باری اور زمینی آپریشن کی کارروائی کا دوبار آغاز کر دیا۔
جنگ بندی کے دوران میں 33 اسرائیلی قیدیوں کی واپسی ہوئی جن میں آٹھ مردہ حالت میں تھے۔ اس کے مقابل اسرائیلی جیلوں سے تقریبا 1800 فلسطینی گرفتار شدگان کو رہا کیا گیا۔