زکربرگ مشکل میں، میٹا کے انسٹاگرام اور واٹس ایپ سے محروم ہونے کا خطرہ
فیس بک کی بنیادی کمپنی میٹا کے خلاف ایک تاریخی عدم اعتماد کا مقدمہ پیر کو شروع ہوگیا جس نے امریکی حکومت کو کمپنی کے خلاف ان الزامات پر کھڑا کردیا ہے کہ میٹا نے غیر قانونی طور پر انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو حاصل کرکے مقابلہ کو دبا دیا ہے۔ میٹا پر امریکی حکومت کی جانب سے مقابلہ ختم کرنے کے لیے انسٹاگرام اور واٹس ایپ خریدنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
اگر فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC)، جس نے 2020 میں مقدمہ دائر کیا تھا، کامیاب ہو جاتا ہے تو Meta کو دو مشہور ایپس کو آزاد کمپنیوں میں تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بڑی ٹیک کمپنی کے پہلے بڑے بریک اپ اور دہائیوں میں سب سے سخت عدم اعتماد کے مقدمات میں سے ایک ہوگا۔ مدعیان نے میٹا پر 2012 میں انسٹاگرام اور 2014 میں واٹس ایپ کو 1890 کے شرمین اینٹی ٹرسٹ ایکٹ کے تحت اجارہ داری کنٹرول حاصل کرنے کی غیر قانونی کوشش کا الزام لگایا ہے۔
واٹس ایپ اور انسٹاگرام کے بغیر میٹا
اس تناظر میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے مشیر عامر الطبش نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو وضاحت کی ہے کہ وفاقی عدالت کی جانب سے میٹا کے خلاف فیصلے کا کمپنی پر خاصا اثر پڑے گا۔ اس سے وہ واٹس ایپ اور انسٹاگرام کو گروپ سے ہٹانے پر مجبور ہوجائے گا تاہم اس وقت اس منظر نامے کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ میٹا کو سوشل میڈیا کی دنیا پر مکمل کنٹرول کی وجہ سے قانونی، مجرمانہ اور مالی دونوں طرح کے متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ حریف وٹس ایپ اور انسٹا گرام کو حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کرنے سے قاصر تھے۔
میٹا کو کمزور کرنے کی کوشش
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے مقدمات کے ذریعے میٹا کو کمزور کرنے اور اس طرح سوشل میڈیا کی دنیا میں اجارہ داری اور غیر مسابقتی اصول کو توڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا مقدمہ اس لیے دائر کیا گیا ہے کیونکہ یہ ایپ مارکیٹ پر اجارہ داری قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی ہے کہ میٹا نے یہ ایپس زیادہ مسابقتی بننے کے لیے تیار کی ہیں۔ اس لیے سوشل میڈیا کی دنیا میں مقابلے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر اجارہ داری ہے تو مدعی کو اس کا ثبوت دینا ہوگا۔
سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کنسلٹنٹ رولا ابی نجم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مقابلے کے مقصد کے لیے ایپ کے حصول کی پالیسی کو نہ صرف میٹا بلکہ متعدد کمپنیاں اپناتی ہیں۔ ان کمپنیوں میں گوگل یوٹیوب اور دیگر ایپس کی مالک ہے۔ اسی طرح مائیکروسافٹ لکڈ ان کی ملکیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بڑی کمپنیاں، یا نام نہاد بگ فش، درخواستیں حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔ اس لیے ایپلی کیشن مارکیٹ میں ایک مضبوط اجارہ داری ہے۔ میٹا نے 2012 میں انسٹاگرام کو تقریباً 1 بلین ڈالر میں اور واٹس ایپ کو 2014 میں تقریباً 22 بلین ڈالر میں خریدا تھا۔