روس ملک میں طالبان کی سرگرمیوں پر عائد پابندی ختم کردی، تحریک طالبان ماسکو کی شکر گذار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

روسی حکومت نے افغان طالبان پر عائد پابندیاں ہٹاتے ہوئے انہیں بلیک لسٹ سے نکال دیا ہے۔ دوسری جانب تحریک طالبان نے ماسکو کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے ’ٹاس‘ کے نامہ نگار کمرہ عدالت سے رپورٹ کیا کہ روس کی سپریم کورٹ نے روس میں طالبان کی سرگرمیوں پر پابندی کو معطل کرنے کے لیے پراسیکیوٹر جنرل کی انتظامی درخواست منظور کر لی ہے۔

جج نے اعلان کیا کہ "روسی فیڈریشن کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق طالبان تحریک کی سرگرمیوں پر جو پابندی پہلے سے عائد کی گئی تھی اور اسے دہشت گرد تنظیم کے طور پر بلیک لسٹ کیاگیا تھا کو اب دہشت گردتنظیموں کی یونیفائیڈ فیڈرل لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔

خیال رہےکہ یہ اجلاس بند دروازوں کے پیچھے منعقد ہوا۔

روسی خبر رساں ایجنسیوں نے کیس کے انچارج جج کے حوالے سے ایک بند سیشن کے بعد کہا کہ "فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ تاہم یہ فیصلہ اس مرحلے پر ماسکو کی طرف سے طالبان کی حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتا۔

ماسکو میں افغان سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ افغان حکام روس میں طالبان کی سرگرمیوں پر سے پابندی ہٹانے کے فیصلے پر روس کے شکر گزار ہیں۔ سفارت خانے نے ’ٹاس‘ کو بتایا کہ "ہم اس فیصلے پر ماسکو کے شکر گذار ہیں، کیونکہ اس سے تعاون کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی"۔

مارچ میں روسی پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے درخواست کی کہ طالبان کو روس کی "دہشت گرد" تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا جائے۔

طالبان نے 15 اگست 2021ء کو امریکی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد افغان دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جس کے بعد ملک سے امریکی افواج کا مکمل انخلا ہوا تھا۔

اس کے بعد سے ماسکو نے نئی افغان حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کا وعدہ کیا ہے، جسے وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ممکنہ اقتصادی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔

روس کے علاوہ پاکستان، چین، ایران اور وسطی ایشیا کے بیشتر ممالک افغان حکام کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کے ہیں۔

تحریک طالبان کی اقتدار میں واپسی سے پہلے ہی ماسکو حکام کئی مواقع پر طالبان کے ایلچی سے اپنی سرزمین پر مل چکے ہیں۔

دسمبر 2024ء میں روسی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا جس میں ان تنظیموں پر پابندی کو معطل کرنے کی اجازت دی گئی جنہیں ماسکو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

فی الحال کوئی بھی ملک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا۔ طالبان نے 20 سال کی جنگ کے بعد امریکی قیادت میں فوج کے انخلاء کے بعد اگست 2021 میں افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔

روس بتدریج طالبان تحریک کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا ہے، جس کے بارے میں صدر ولادیمیر پوتین نے جولائی میں کہا تھا کہ اب وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں