ہمارے شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنا مایوس کن ہے: وزیر خارجہ افغانستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے کابل میں ہونے والی ملاقات کے دوران اس امر پر سخت تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ پاکستاان افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیج رہا ہے۔ اس سلسلے میں افغانوں کو پاکستان سے جبری طور پر نکالا جارہا ہے۔

پاکستان نے ماہ اپریل کے آغاز سے اب تک ہزاروں افغان شہریوں کو واپس آنے وطن جانے پر مجبور کیا ہے۔ پاکستان نے ایک مہم کے تحت اس ماہ کے اختتام تک آٹھ لاکھ سے زائد افغانیوں کو واپس بھیجنا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ان میں ایسے افغانی بھی ہیں جو کئی دہائیوں سے پاکستان میں مہاجین کے طور پر پناہ لیے ہوئے تھے اور بہت سے ایسے بھی ہیں جنکی پیدائش ہی پاکستان مین قائم ان مہاجر کیمپوں میں ہوئی تھی۔

ان افغانیوں کو پاکستان سے نکالے جانے کے ماحول میں وزیر خارجہ پاکستان اسحاق دار نے ہفتے کے روز کابل کا دورہ کیا ہے۔ جہاں ان کی وزیر اعظم افغانستان حسن اخوند اور وزیر خارجہ امیر خان متقی افغانستان سمیت دیگر حکام سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

ان ملاقاتوں کے بعد افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان ضیا احمد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا ہے' افغان وزیر خارجہ نے اپنے شہریوں کو واپس افغانستان بھیجے جانے کے پاکستان کے فیصلے پر گہری تشویش اور مایوسی ظاہر کی ہے۔ ' وزیر خارجہ نے پاکستانی حکام سے زور دے کر کہا ہے کہ وہ افغانیوں کے پاکستان میں رہنے کے حقوق کو دبانے سے گریز کریں۔ '

نائب ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ پاکستان اسحاق ڈار نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 'کسی افغانی کے ساتھ بد سلوکی نہیں ہو گی۔'

پاکستان میں افغانیوں کوواپس اپنے وطن بھیجنے کی اس مہم کے دوران کئی افغانوں کی گرفتاریوں اور انہیں ہراساں کرنے کی اطلاعات بھی سامنے ائی ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق رواں ماہ کے دوران اب سے پہلے 85000 افگان شہری واپس بھیجے جا چکے ہیں۔ افغان حکام کے مطابق یکم سے 18 اپریل تک 71000 افغانی واپس پہنچے ہیں۔

ہر روز ہزاروں افغانی شہری گرفتاریوں اور اپنے اہل خانے کے بچھڑجانے کے خوف سے پاک افغان سرحد عبور کر رہے ہیں۔ ایک روز قبل وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ 'اس فیصلے پر عمل میں کوئی نرمی نہیں کی جائے گی اور نہ ہی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے گی۔ '

انہوں نے یہ بھی کہا 'جب کوئی ضروری دستاویزات کے بغیر پہنچے گا تو اس سے اس کے بارے میں لا محالہ یہ شکوک پیدا ہو سکتے ہیں کہ وہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث تھا، دہشت گردی میں مدد دے رہا تھا یا کسی اور جرم میں ملوث تھا۔'

اتفاق سے کئی دہائیوں تک افغان بھائیوں کی فراخدلانہ میزبانی کرنے والے پاکستان نے افغانیوں کو اس وقت واپس بھیجنا شروع کیا ہے جب افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے مگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی و سفارتی امور میں دہشت گردی کے بعض واقعات نے مسائل پید کر رکھے ہیں۔

پاکستان کو طالبان حکومت سے شکوہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کو افغانستان میں پناہ دی جاتی ہے۔ طالبان حکومت اس امر کی تردید کرتی ہے۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان میں دہشت گردی میں بہت شدت آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں