سعودی سائنسدانوں نے بحیرہ احمر کی مرجان کی چٹانوں میں غیر متوقع ماحولیاتی نظام دریافت کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ نیشنل سینٹر فار وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ کے تعاون سے دنیا کے تیسرے سب سے بڑے مرجان کی چٹان کے نظام کے نیچے اور بحیرہ احمر میں سب سے بڑے ایک منفرد اور غیر متوقع ماحولیاتی نظام کو دریافت کرلیا گیا ہے۔

ایک تحقیقی مطالعہ میں دریافت ہونے والے اس نظام میں متنوع سمندری جانداروں جیسے مرجان، مچھلیوں اور دیگر پانیوں کی تخلیق کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ نظام سعودی عرب اور یمن کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ حیاتیات کم آکسیجن اور زیادہ تیزابیت والے ماحول میں پائے گئے۔ یہ ایسے حالات ہیں جنہیں پہلے زندگی کے لیے نا مناسب سمجھا جاتا تھا۔

سٹڈی نے انکشاف ہوا ہے کہ کہ ان میں سے کچھ حیاتیات کے پاس غیر متوقع موافقت کی حکمت عملی تھی جس نے انہیں اس سخت ماحول میں ایک ساتھ رہنے کے قابل بنا دیا۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ مچھلی زیادہ آہستہ حرکت کرتی ہے جبکہ مرجان ایسے حالات میں صحت مند رہتا ہے۔ یہ ماحول عام طور پر مرجان کی نشوونما اور بقا کے لیے ضروری کیلکیفیکیشن کے عمل میں رکاوٹ بنتا ہے۔

KAUST کے محقق اور مطالعہ کی رہنما خاتون ڈاکٹر شینن کلین نے وضاحت کی ہے کہ ان جانداروں کی گرم، کم آکسیجن والے ماحول میں رہنے کی صلاحیت کو ان کے منفرد میکانزم سے شناخت کیا گیا جو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت کو کم کرتے ہیں۔

پانی کے اندر آکسیجن کی سطح

اگرچہ یہ مخلوق پانی کے اندر رہتی ہے لیکن مچھلیاں، مرجان کی چٹانیں اور بہت سے دوسرے سمندری جانداروں کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ زمین پر رہنے والے جانداروں کی طرح یہ جاندار اس وقت دم گھٹتے کا شکار ہوجاتے ہیں جب آکسیجن کی سطح خطرناک سطح پر گر جاتی ہے۔ تاہم بحیرہ احمر کا پانی لچکدار ماحولیاتی نظام کو ظاہر کر رہا ہے۔ سمندروں میں آکسیجن کی کمی بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے نتائج میں سے ایک ہے۔ یہ سمندری جاندار کس طرح ایسے ماحول میں زندہ رہتے ہیں؟ اس سوال کے جواب سے یہ سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے کہ سمندری حیات آب و ہوا کی تبدیلی کے مطابق کیسے چلتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں