ریاض میں تعینات ایرانی سفیر علی رضا عنایتی نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کے حالیہ دورہِ تہران کو "اہم موڑ" قرار دیا ہے۔
پیر کے روز العربیہ نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ "وزیر دفاع کی آمد کے ساتھ ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں"۔
عنایتی نے مزید کہا کہ ایران نے پچھلے دو برسوں میں ٹھوس اور مثبت اقدامات کیے ہیں اور وہ مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہے۔ سفیر کے مطابق "ہم خوش ہیں، اور اس مفاہمت کے ثمرات سمیٹ رہے ہیں"۔
گذشتہ جمعرات کو سعودی وزیر دفاع نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تہران کا سرکاری دورہ کیا۔ یہاں انھوں نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے ملاقات کی اور خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا تحریری پیغام اُن تک پہنچایا۔
اس ملاقات میں دونوں شخصیات نے سعودی-ایرانی تعلقات اور باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
بعد ازاں، شہزادہ خالد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی صدارتی محل میں ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔
سعودی وزیر دفاع نے ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر دوطرفہ عسکری و دفاعی تعاون اور خطے کی صورت حال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
یہ تاریخی دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری کا آغاز ہو چکا ہے۔ دونوں ممالک نے 10 مارچ 2023 کو بیجنگ (چین) میں ایک معاہدے کے ذریعے سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔
-
تہران دو سال سے ٹرمپ کے ساتھ خفیہ طور پر رابطہ کر رہا ہے: ایرانی رکن پارلیمان
امریکی اور ایرانی فریقین کی طرف سے کل ہفتے کے روز روم میں ہونے والی بات چیت کے ...
بين الاقوامى -
امریکا کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور مسقط میں ہوگا: ایران
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک اور امریکہ ...
مشرق وسطی -
اسرائیل امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات کو 'کمزور' کرنا چاہتا ہے: ترجمان وزیرِ خارجہ
ایران نے پیر کے روز اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ ...
بين الاقوامى