امریکی صدر کا پوپ فرانسس کے جنازے میں شرکت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ روم میں پوپ فرانسس کے جنازے میں شرکت کریں گے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "میں اور میلانیا پوپ فرانسس کے جنازے میں شرکت کریں گے"۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس، عوامی و فوجی املاک، بحریہ کے جہازوں اور بیرون ملک امریکی سفارتی مشنوں پر قومی پرچم سرنگوں کرنے کی ہدایت بھی کی ہے تا کہ "پوپ فرانسس کی یاد میں احترام کا اظہار" کیا جا سکے۔

ٹرمپ اور ویٹی کن کے درمیان تعلقات میں اکثر تناؤ رہا ہے۔ تاہم، ایسٹر کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران، ٹرمپ نے کہا کہ "وہ ایک اچھے انسان تھے، محنتی تھے اور دنیا بھر سے محبت کرتے تھے"۔

اس سے پہلے، ٹرمپ نے مذکورہ پلیٹ فارم پر ایک مختصر پیغام میں لکھا تھا "آرام کرو پوپ فرانسس! خدا اُنہیں برکت دے اور اُن تمام لوگوں کو بھی جو اُن سے محبت کرتے تھے"۔

سابق امریکی صدر جو بائیڈن، جو امریکہ کے دوسرے کیتھولک صدر ہیں، انھوں نے پوپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ "اپنے پیش روؤں کی طرح نہیں تھے… وہ عوام کے پوپ تھے، ایمان، امید اور محبت کی روشنی"۔

پوپ فرانسس
پوپ فرانسس

دنیا بھر سے کارڈینلوں کی شرکت

روم میں پوپ کے جنازے میں دنیا بھر سے کارڈینل شرکت کریں گے۔ ان میں 135 ایسے کارڈینل شامل ہیں جن کی عمر 80 سال سے کم ہے اور جو نئے پوپ کے انتخاب کے لیے ہونے والے عمل میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

ویٹی کن نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ پوپ فرانسس کا انتقال فالج کے باعث ہوا۔ وہ 88 برس کے تھے اور دنیا بھر میں مقبولیت رکھتے تھے۔
ویٹی کن کی جانب سے جاری کردہ موت کے سرٹیفکیٹ میں کہا گیا ہے کہ "ان کے انتقال کی تصدیق ای سی جی (الیکٹروکارڈیوگرام) سے ہوئی"۔

پوپ فرانسس کی میت پیر کی شام 6 بجے (گرینچ کے وقت کے مطابق)، سینٹ مارتھا ہاؤس کے چرچ میں رکھی گئی، جہاں پوپ 2013 سے مقیم تھے۔ بدھ سے ان کی میت سینٹ پیٹرز کیتھیڈرل میں رکھی جائے گی۔ کارڈینلوں کی جانب سے منگل کو تدفین کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔ یہ ممکنہ طور پر موت کے چوتھے سے چھٹے روز کے درمیان ہو گی۔

پادریوں کے ارکان 21 اپریل 2025 کو بولیویا کے لا پاز میں واقع میٹروپولیٹن کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف پیس میں پوپ فرانسس کی یاد میں اجتماع منا رہے ہیں۔ (رائٹرز)
پادریوں کے ارکان 21 اپریل 2025 کو بولیویا کے لا پاز میں واقع میٹروپولیٹن کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف پیس میں پوپ فرانسس کی یاد میں اجتماع منا رہے ہیں۔ (رائٹرز)

نو روزہ سوگ

ویٹی کن کے آئین کے مطابق، پوپ کی وفات پر نو دن کا سرکاری سوگ ہوتا ہے۔ نئے پوپ کے انتخاب کے لیے ہونے والے کونکلیو کے انعقاد کی مدت 15 سے 20 دن کے درمیان ہوتی ہے۔ پوپ فرانسس نے جن کارڈینلوں کو مقرر کیا تھا، وہ ووٹنگ کے اہل کارڈینلوں کا تقریباً 80 فی صد ہیں۔

پوپ فرانسس نے 2023 کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ وہ ویٹی کن کے روایتی سرداب کے بجائے روم کے مرکز میں واقع "سانتا ماریا ماجور" چرچ میں دفن ہونا چاہتے ہیں۔ یہ تین صدیوں میں ایک نئی روایت ہوگی۔

نومبر 2024 میں ویٹی کن نے پوپ کے جنازے کے لیے روایتی طور پر استعمال ہونے والے تین باکسوں (صنوبر، سیسہ اور بلوط کی لکڑی) کے بجائے سادہ رسومات کا اجرا کیا تھا۔ ان میں سادہ لکڑی اور زنک کے تابوت کا استعمال شامل ہے۔

پوپ فرانسس
پوپ فرانسس

عوامی دعائیہ تقریب

پیر کی شام ہزاروں افراد جن میں کچھ لوگ پھول یا موم بتیاں لے کر آئے تھے ، سینٹ پیٹرز اسکوائر میں جمع ہوئے تاکہ آنجہانی پوپ کی یاد میں دعائیہ تقریب میں شریک ہو سکیں۔

روم میں 66 سالہ فابیو مالفیزی نے کہا کہ "ایک عظیم پوپ رخصت ہو گیا، اُس نے بہت سی چیزیں تبدیل کیں اور رکاوٹیں توڑیں"۔
غزہ کے رہائشی 33 سالہ ابراہیم الترزی نے کہا کہ "یہ ایک دل دہلا دینے والی خبر ہے، جو غزہ، فلسطین اور دنیا بھر کے امن پسند مسیحیوں کے دلوں کو زخمی کر گئی"۔

ایک شخص پوپ فرانس کی تصویر تھامے ہوئے
ایک شخص پوپ فرانس کی تصویر تھامے ہوئے

پوپ فرانسس کے آبائی شہر بیونس آئرس میں 66 سالہ ریٹائرڈ شخص، خوان خوسے روئی نے کہا کہ "یہ واقعی ایک مشکل بات ہے، وہ شخص جو سب سے زیادہ محروم لوگوں کی پروا کرتا تھا، ہمیں چھوڑ گیا۔ صرف یہی بات تسلی دیتی ہے کہ اُسے عیدِ الفصح (ایسٹر) کے دن دنیا کو الوداع کہنے کا موقع ملا"۔

پوری دنیا کا نقصان

جاپان کے وزیراعظم شیگیرُو ایشیبا نے پیر کی شام "گہرے دکھ" کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوپ فرانسس کی موت "پوری دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان" ہے۔

ایشیبا نے ایک بیان میں کہا کہ "پوپ فرانسس کا انتقال نہ صرف ویٹی کن کے عوام اور کیتھولک برادری بلکہ پوری بین الاقوامی برادری کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے"۔

عرب دنیا کی جانب سے خراج تحسین

عرب اور مشرق وسطیٰ کے قائدین نے پیر کے روز پوپ فرانسس کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ... اور مسئلہ فلسطین ، غزہ میں جنگ اور بین المذاہب مکالمے کو فروغ دینے کے حوالے سے اُن کے موقف کو سراہا۔

پوپ نے بارہا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، جو سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے جنوب پر "حماس" کے حملے کے بعد شروع ہوئی۔ انہوں نے اتوار کو ویٹی کن میں ایسٹر کی تقریبات کے دوران اپنے آخری ظہور میں "غزہ کی شرم ناک صورتِ حال" کی مذمت کی اور دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے سام دشمن رجحانات سے خبردار کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں