ٹرمپ کے حملے: ٹی وی شو "60 منٹس" کے پروڈیوسر نے استعفیٰ دے دیا
ٹرمپ کا شو میں کملا ہیرس کے انٹرویو میں ہیرا پھیری کا الزام
مشہور ٹیلی ویژن پروگرام "60 منٹس" کے پروڈیوسر بل اوونز نے منگل کو استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ اس کے لیے انہوں نے اپنی آزادی پر حملوں کو وجہ قرار دیا جو حالیہ مہینوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پروگرام کے خلاف قانونی کارروائی کے دوران کیے گئے ہیں۔
پیراماؤنٹ پکچرز کی ملکیت اور سی بی ایس نیوز کا فلیگ شپ اور قیمتی ترین شو "60 منٹس" ایک دیرینہ ہفتہ وار پروگرام ہے جو 1968 میں پہلی بار نشر ہونے کے بعد سے امریکہ میں حالاتِ حاضرہ کا احاطہ کرتا رہا ہے۔
تاہم یہ پروگرام فی الحال ٹرمپ کے ساتھ ایک گرما گرم قانونی تنازعے میں الجھا ہوا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق شو کے پروڈیوسر اور تجربہ کار صحافی نے اپنی ٹیم کے نام ایک ای میل میں استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔
انہوں نے خط میں کہا، "گذشتہ کئی مہینوں کے دوران مجھ پر یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ مجھے اب یہ شو نہیں کرنے دیا جائے گا جیسا کہ میں ہمیشہ کرتا رہا ہوں۔ اس کے لیے میں نے اس کی بنیاد پر آزادانہ فیصلے کیے ہیں کہ 60 منٹ شو کے لیے اور ناظرین کے لیے کیا چیز صحیح ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "اس لیے اس شو کا دفاع کرتے ہوئے اور جس کے لیے ہم ہر طرح سے اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ کھڑے ہیں، میں خود کو شو سے الگ کر رہا ہوں تاکہ یہ آگے بڑھ سکے۔"
ہفتہ وار تقریباً 10 ملین ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا شو "60 منٹس" میڈیا پر ٹرمپ کے حملوں کا ایک بڑا ہدف بن گیا ہے۔
اکتوبر 2024 کے آخر میں ریپبلکن ارب پتی صدر نے "60 منٹس" کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا جس میں انہوں نے سات اکتوبر کو اپنی ڈیموکریٹک حریف کملا ہیرس کے ایک انٹرویو میں ہیرا پھیری کرنے کا الزام لگایا۔
سی بی ایس نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے جنہیں تبصرہ نگاروں نے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اس پروگرام میں ٹرمپ انتظامیہ پر تنقیدی تحقیقاتی رپورٹیں نشر کرنا جاری ہے جب سے ان کی وائٹ ہاؤس میں واپسی ہوئی ہے۔
ان تحقیقات کے جواب میں ٹرمپ نے "60 منٹس" کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ ان کے ارب پتی مشیر ایلون مسک نے امید ظاہر کی ہے کہ شو کی کاسٹ کو طویل قید کی سزائیں دی جائیں گی۔
سی بی ایس نیوز کی سربراہ کمپنی پیراماؤنٹ کے سکائی ڈانس کے ساتھ ضم کرنے کے منصوبے پر فریقین کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس اقدام کے لیے پہلے فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن کے چیئرمین برینڈن کار کی منظوری درکار ہے جو ٹرمپ کے حامی ہیں۔
ہیرس کے انٹرویو کے مقدمے میں ٹرمپ سی بی ایس نیوز سے 20 بلین ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
میڈیا ذرائع اس تنازعہ پر ٹرمپ اور نیٹ ورک کے درمیان کسی تصفیے کے امکان کے بارے میں بات کرتے رہے ہیں لیکن پروڈیوسر اوونز نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ایسا کوئی تصفیہ ہو جائے تو وہ معافی نہیں مانگیں گے۔