یمن میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقام کے قریب دھماکے کی وجہ حوثی میزائل تھا: امریکہ
حقوق کے حامیوں کا شہری ہلاکتوں پر اظہارِ تشویش
امریکی فوج نے جمعرات کو کہا کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقام کے قریب اتوار کو ہونے والا دھماکہ حوثی میزائل کی وجہ سے ہوا تھا نہ کہ امریکی فضائی حملے سے۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے کہا کہ صنعا کے ایک محلے میں امریکی حملے میں ایک درجن افراد ہلاک ہو گئے۔ صنعاء کا قدیم شہر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا ایک تسلیم شدہ مقام ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ یمن پر امریکی حملے تیز کرنے کا حکم دیا اور ان کی انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر حملے جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے بند نہ کر دیں۔
امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے ایک ترجمان نے کہا کہ یمن کے حوثی عہدیداروں کے بیان کردہ نقصانات اور ہلاکتیں "ممکنہ طور پر واقع ہوئیں" لیکن ان کی وجہ امریکی حملہ نہیں تھا۔ ترجمان نے کہا کہ اس رات قریب ترین امریکی حملہ تین میل (پانچ کلومیٹر) سے زیادہ فاصلے پر تھا۔
ترجمان نے کہا، امریکی فوج نے اندازہ لگایا کہ نقصان "حوثی فضائی دفاعی میزائل" کی وجہ سے ہوا ہے۔ یہ اندازہ "مقامی رپورٹنگ بشمول میزائل کے ٹکڑوں پر عربی تحریر کی دستاویزی ویڈیوز" کے جائزے کی بنیاد پر لگایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں نے بعد میں یمنیوں کو گرفتار کیا۔ اںہوں نے اس دعوے کا ثبوت فراہم نہیں کیا۔
نیویارک ٹائمز نے ایک حوثی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی انکار حوثیوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔
مقامی وزارتِ صحت کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں جمعرات کو تیل کے ٹرمینل پر 74 افراد کی ہلاکت شامل ہے۔
امریکی فوج نے کہا ہے کہ حملوں کا مقصد حوثیوں کی عسکری اور اقتصادی صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے۔
حقوق کے حامیوں نے شہری ہلاکتوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے اور تین ڈیموکریٹک سینیٹرز بشمول سینیٹر کرس وان ہولن نے جمعرات کو پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ کو خط لکھ کر شہریوں کی جانوں کے ضیاع کا حساب دینے کا مطالبہ کیا۔
حوثی باغیوں نے گذشتہ ایک عشرے کے دوران یمن کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ نومبر 2023 سے انہوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر یہ کہہ کر ڈرون اور میزائل حملے شروع کر دیئے کہ وہ اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنائیں گے۔