استنبول کی استغاثہ نے آج بروز ہفتہ اعلان کیا ہے کہ استنبول کے میئر، اپوزیشن رہنما اور مارچ کے اواخر سے قید "اکرم امام اولو" کے تقریباً 50 قریبی ساتھیوں اور حامیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری بد عنوانی کے ایک مقدمے کے سلسلے میں عمل میں آئی ہے جس میں امام اولو بھی ملوث بتائے جا رہے ہیں۔
استغاثہ نے اپنے بیان میں کہا کہ "تحقیقات کے تحت 53 افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے جن میں استنبول اور انقرہ خاص طور پر شامل ہیں، ان میں سے 47 کو گرفتار کر لیا گیا ہے"۔ یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔
ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق آج صبح گرفتار ہونے والوں میں میئر کی چیف اسسٹنٹ قدریہ کساب اولو، ان کی اہلیہ دیلیک امام اغلو کے بھائی، واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا ایک اعلیٰ عہدے دار اور میونسپلٹی کے سابق حکام شامل ہیں۔
دوسری طرف، اپوزیشن سے قریبی تعلق رکھنے والی خبر رساں ویب سائٹ "بیر گون" نے اطلاع دی ہے کہ آج صبح بھی استنبول، انقرہ اور تیکرداغ (شمال مغربی ترکی) میں چھاپے جاری تھے۔
بدعنوانی کے الزامات
واضح رہے کہ اکرم امام اغلو، جو صدر رجب طیب اردوان کے اہم ترین مخالفین میں شمار ہوتے ہیں، انھیں 19 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسی ماہ کی 25 تاریخ کو بد عنوانی کے الزام میں احتیاطی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔
امکان تھا کہ انھیں اپوزیشن کی جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی" (CHP) آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کرے گی۔
-
فعال اور پیچیدہ تختی ... مصری ماہر ارضیات نے ترکیہ کے زلزلے کی وجہ بتا دی
دو روز پہلے ترکیہ کے شہر استنبول کو ہلا کر رکھ دینے والے زلزلے کے اثرات ابھی تک ...
بين الاقوامى -
استنبول میں شدید زلزلہ کے بعد آفٹرشاکس کا سلسلہ: رہائشی رات باہر گذارنے پر مجبور
استنبول کے بہت سے باشندے ایک زبردست زلزلے اور 180 سے زیادہ آفٹرشاکس کے بعد اپنے ...
بين الاقوامى -
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 17 افراد ہلاک: امدادی کارکنان
پانچ سالہ جنگ بندی، قیدیوں کی ایک ہی دفعہ رہائی کے لیے تیار: حماس
مشرق وسطی