سعودی عرب کی غیر تیل کی برآمدات نے 2024 میں ریکارڈ کارکردگی دکھائی۔ اس سال سعودی برآمدات تاریخ میں سب سے زیادہ 515 بلین ریال تک پہنچ گئیں۔ یہ ویژن 2030 کے آغاز کے بعد سے 113 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد اضافہ ہے۔ یہ صورت حال قومی معیشت کے تنوع کی عکاسی کرتی ہے اور عالمی منڈیوں میں سعودی مصنوعات اور خدمات کی مسابقت کی تصدیق بھی کر رہی ہے۔
شرح نمو میں تمام برآمدی شعبے شامل تھے کیونکہ تجارتی سامان کی برآمدات میں پٹرو کیمیکل اور نان پیٹرو کیمیکل برآمدات بالترتیب 2 فیصد اور 9 فیصد بڑھی ہیں۔ برآمدات 217 ارب ریال تک پہنچ گئی ہیں۔ اس طرح برآمدات میں اضافہ 4 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
ویژن کے آغاز کے بعد سے 205 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سروس ایکسپورٹ 207 بلین ریال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد اور ویژن کے اعلان کے بعد سے 220 فیصد کا اضافہ ہے۔ سعودی ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سی ای او عبدالرحمن الذاکر نے بتایا کہ 2024 میں غیر تیل کی برآمدات کی تاریخی کارکردگی معیشت کو متنوع بنانے اور قومی مصنوعات کی مسابقت بڑھانے کے لیے مملکت کی جاری کوششوں کا نتیجہ ہے۔
پیٹرو کیمیکل کی برآمدات 2024 میں 149 بلین ریال تک پہنچ گئیں ۔ غیر پیٹرو کیمیکل برآمدات نے قابل ذکر کارکردگی ریکارڈ کی اور 69 بلین ریال تک پہنچ گئیں۔ مملکت نے کھاد کی برآمدات میں بھی غیر معمولی کارکردگی کا مشاہدہ کیا گیا۔ 2024 میں مصنوعات کا وزن تاریخی بلندی پر پہنچ گیا جس میں سال بہ سال 5 فیصد اضافہ ہوا اور ویژن کے آغاز کے بعد سے اس کی قیمت میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔ دریں اثنا مملکت کے برآمدی شعبے نے 2024 میں تاریخی کارکردگی ریکارڈ کی ہے۔ برآمدات کی مالیت 90 بلین ریال تک پہنچ گئی ہے۔ اس کارکردگی کو بنیادی طور پر موبائل فونز کی دوبارہ برآمد کی حمایت حاصل تھی۔
مملکت نے 2024 میں تقریباً 30 ملین بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کیا۔ 2019 کے مقابلے میں سفری برآمدات میں 150 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کل برآمدات کا 74 فیصد ہے۔ مملکت نے عالمی سیاحوں کی تعداد میں وبائی امراض سے پہلے کی سطحوں کے مقابلے میں 69 فیصد اضافہ دیکھا۔ 2019 کے مقابلے میں سیاحت کی آمدنی میں 148 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔