غزہ پر مشاورت مکمل کرنے کے بعد حماس کا وفد قاہرہ سے واپس چلا گیا

پٹی میں بگڑتی انسانی صورتحال پر توجہ دی گئی، بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے فوری کارروائی پر زور دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حماس کا ایک وفد غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حوالے سے مصری حکام سے مشاورت مکمل کرنے کے بعد قاہرہ سے واپس چلا گیا ہے۔ حماس کے ٹیلی گرام چینل پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں لکھا گیا کہ وفد نے ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے تحریک کے ویژن کا جائزہ لیا۔ جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے، ریلیف اور تعمیر نو کے لیے مزید کوششیں کرنے اور ان کوششوں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

بیان کے مطابق دو ماہ کی ناکہ بندی کے بعد غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال پر بھی توجہ دی گئی۔ اس پٹی کے مکینوں کو رسد اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ وفد میں حماس کی قیادت کونسل کے سربراہ محمد درویش اور کونسل کے باقی ارکان خالد مشعل، خلیل الحیہ، زاھر جبارین اور نزار عوض اللہ شامل تھے۔ 15 جنوری کو اسرائیل اور حماس نے غزہ میں زیر حراست یرغمالیوں کو رہا کرنے اور پٹی میں جنگ بندی نافذ کرنے پر اتفاق کیا۔ اس معاہدے میں تین مراحل شامل تھے۔ پہلے مرحلے کا نفاذ 19 جنوری کو کیا گیا۔ 42 دن کے پہلے مرحلے کے اختتام پر دوسرے مرحلے کو شروع نہ کیا جا سکا تھا۔

رفح، جنوبی غزہ کی پٹی سے - 13 مارچ 2025، رائٹرز سے
رفح، جنوبی غزہ کی پٹی سے - 13 مارچ 2025، رائٹرز سے

18 مارچ کو اسرائیلی فوج نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں اپنی جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کردی تھیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے وضاحت کی ہے کہ یہ حماس کی جانب سے مذاکرات کے دوران ثالثوں اور وٹکوف کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کو مسترد کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ پٹی میں دوبارہ آپریشن کا مقصد تمام قیدیوں کو رہا کرانا ہے۔ حماس نے اسرائیل اور امریکہ کو دوبارہ جارحیت شروع کرنے اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں