ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا آذربائیجان کا دورہ، دو طرفہ معاہدات کے لیے گرمجوشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پیر کے روز آذربائیجان میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کی ہے۔ پیر کے روز وہ باکو کے دورے پر تھے۔ ایران اور آذربائیجان ایسے دو پڑوسیوں کے درمیان تعلقات کا یہ ملاقات تازہ ترین حوالہ بن گئی ہے۔

ماضی کے برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کافی زیادہ رہی ہے اور اس طرح کا ایرانی صدر کا دورہ کم کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔

ان تعلقات کی سرد مہری میں ایک وجہ آذربائیجان کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا ہونا بھی رہا ہے۔ جبکہ ان تعلقات میں مزید خرابی جنوری 2023 میں اس وقت آئی جب تہران میں آذربائیجان کے سفارتخانے پر حملہ ہوا۔ یوں تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے۔

ایرانی صدر نے اپنے ہم منصب سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا 'دونوں ملک اپنے تنازعات کو مشترکہ طور پر طے کر سکتے ہیں اور تنازعات ان مسائل کو طے کرنے کا سب سے اہم راستہ ہے۔ جس سے تعلقات میں مضبوطی آئے گی اور باہمی احترام اور ایک دوسری کی سلامتی کا خیال رکھا جائے گا۔

ایرانی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ آذربائیجان کے ساتھ تمام شعبہ ہائے زندگی میں سٹریٹیجک نوعیت کے تعلقات استوار کرے اور ہم نہیں چاہیں گے کہ کوئی اور ملک ہم دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیے نے پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا 'صدر پیزشکیان کا یہ دورہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر تعلقات ہیں۔ دونوں ملکوں کے شہری صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ہمارا دو طرفہ تعلقات کا ماحول دوستانہ اور برادرانہ ہے۔ آج ہمارے ریاستی تعلقات مزید آگے بڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ یہ ٹھوس بنیادوں پر ہیں۔ جیسا کہ پچھلے ہفتے مسعود پیزشکیان نے امید ظاہر کی تھی کہ ان تعلقات میں سنجیدہ اور تیزی سے بہتری آئے گی۔'

جنوری 2023 میں تہران میں آذربائیجان کے سفارتخانے پر حملے کے بعد تعلقات میں کافی رخنہ آیا۔ تاہم 2024 کے وسط میں عدالت نے حملہ آور کو سزائے موت سنا دی تو آذربائیجان نے اپنا سفارتخانہ تہران میں دوبارہ کھول لیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان تنازعے کا ایک اور ذریعہ 'زینجیزور راہداری' کا معاملہ ہے۔ جو آذربائیجان ، ایران اور ترکیہ کے درمیان رابطوں کا ذریعہ ہے۔ ایران اس منصوبے کی سختی سے مخالفت کرتا رہا ہے۔ کیونکہ یہ ایرانی سرحد کے ساتھ ساتھ آرمینیا کے بھی قریب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں