ایران میں فائر بریگیڈ کے عملے نے آج پیر کے روز، مسلسل تیسرے دن بھی ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ میں لگنے والی خوف ناک آگ بجھانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ یہ آگ ہفتے کے روز ہونے والے ایک زبردست دھماکے کے بعد بھڑک اٹھی تھی اور اس میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر پیر کی صبح براہ راست نشر کی جانے والی تصاویر کے مطابق بندرگاہ رجائی میں جمع شدہ کنٹینروں کے اوپر اب بھی گہرا کالا دھواں اٹھ رہا تھا۔
ٹیلی ویژن نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کے بعد "جائے وقوع کی صفائی اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا مرحلہ آئے گا"۔
ہفتے کے روز دوپہر کے قریب بندرگاہ رجائی کے ایک پلیٹ فارم پر ہونے والے زور دار دھماکے کی آواز بہت دور تک سنی گئی تھی۔ اس پلیٹ فارم سے ایران کی 85 فی صد مال برداری گزرتی ہے۔
یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز پر واقع ہے، جہاں سے دنیا میں تیل کی پیداوار کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ یہ بندر عباس کے بڑے علاقے کا حصہ ہے، جہاں تقریباً 6.5 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ اس علاقے میں ایرانی بحریہ کا ایک بڑا اڈا بھی موجود ہے۔
دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور 1000 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ یہ بات حکام نے تازہ ترین اعداد و شمار میں بتائی۔
دھماکے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، تاہم کسٹمز اتھارٹی نے بتایا کہ غالب امکان ہے کہ یہ حادثہ خطرناک اور کیمیائی مواد کی ذخیرہ کرنے والی ایک سہولت میں لگنے والی آگ سے پیدا ہوا ہو۔
مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای نے اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ "کسی بھی قسم کی غفلت یا جان بوجھ کر کیے گئے اقدام" کو بے نقاب کیا جا سکے۔
ایرانی صدر محمد پزشکیان ... بندر عباس کے قریبی شہر کے ہسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کے لیے پہنچے۔
وزارت صحت نے علاقے کے رہائشیوں سے "آئندہ اطلاع تک" گھروں کے اندر رہنے کی اپیل کی ہے، اور زخمیوں کے لیے خون عطیہ کرنے کی بھی اپیل جاری کی گئی ہے۔