صعدہ پر امریکی حملے میں اموات کی تعداد 68 ہو گئی ہے: حوثی میڈیا
مارچ کے وسط سے اب تک 800 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، سینکڑوں جنگجو مارے گئے: امریکی فوج
حوثی میڈیا نے پیر کو بتایا ہے کہ شمالی یمن میں باغیوں کے گڑھ صعدہ میں افریقی پناہ گزینوں کی پناہ گاہ پر امریکہ سے منسوب فضائی حملے میں کم از کم 68 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ حوثی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ امریکہ کی جانب سے صعدہ شہر میں غیر قانونی تارکین وطن کے ایک مرکز کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں 68 افریقی تارکین وطن جاں بحق اور 47 زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل اموات کی تعداد 35 بتائی گئی تھی۔ واشنگٹن ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کو نشانہ بنانے کے لیے تقریباً روزانہ بمباری کی مہم چلا رہا ہے۔
آج سے قبل حوثی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فضائی حملے میں افریقی تارکین وطن کو قید کرنے والی جیل کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ امریکی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
یہ حملہ یمن کی صعدہ گورنری جو حوثیوں کا گڑھ ہے میں کیا گیا ہے۔ حوثی سے وابستہ میڈیا کی نشر کردہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ جائے وقوع پر ایک دھماکے کے نتیجے میں لاشیں اور زخمی دکھائی دے رہے ہیں۔
حوثی وزارت صحت کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں اپریل کے وسط میں تیل کی بندرگاہ پر حملے میں مرنے والے 74 افراد شامل ہیں۔ فوج نے کہا ہے کہ اس نے مارچ کے وسط سے اب تک 800 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں مسلح گروپ کی تنصیبات کو تباہ کرنے کے علاوہ سینکڑوں حوثی جنگجو اور بڑی تعداد میں حوثی رہنما مارے گئے ہیں۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ حملوں نے کئی کمانڈ اینڈ کنٹرول تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، ہتھیاروں کی تیاری کی تنصیبات اور جدید ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کی جگہوں کو تباہ کر دیا ہے۔
نومبر 2023 سے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے شروع کیے تھے۔ یاد رہے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے 51 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔