یورینیئم کے حوالے سے ایرانی جوہری معاملے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مذاکرات کی معطلی کے بیچ ... ایران کے سخت گیر موقف کے نمائندہ اخبار "کـیـھـان" نے اس بحران کے سفارتی حل کے ایک "آخری ممکنہ موقع" کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اخبار نے عندیہ دیا ہے کہ تہران ایک مشروط تکنیکی رعایت دینے پر آمادہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اسے مزید کشیدگی اور تصادم سے بچنے کا راستہ ملے۔
اخبار لکھتا ہے کہ سفارتی امید کا آخری سہارا یہی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دوران اپنی سابقہ حکومت کے تجربے سے کچھ سیکھا ہو۔ اخبار کے مطابق، ٹرمپ کا مقصد صرف ایران کو قابو میں رکھنا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے لیے یہ شناخت چاہتے تھے کہ وہ ایک ایسے رہنما ہیں جو جنگ کے بغیر بحران کا حل نکالنے میں کامیاب ہوا، جب کہ دوسرے ناکام رہے۔
اخبار "کیھان" نے ایک تنقیدی انداز میں سوال اٹھایا کہ "کیا کوئی بھی عقل مند رہنما ایسے وقت میں سفارتی حل کو ترک کر کے جنگ چھیڑنے کا انتخاب کرے گا، جب کہ اب بھی ایک تنگ سا موقع مذاکرات کے لیے باقی ہے؟"
ایرانی فریق کے ممکنہ مشروط لچک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، اخبار نے کہا کہ ایران شاید یورینیئم کی افزودگی کو ایک نچلی غیر عسکری سطح تک لانے اور اس پر آزاد نگرانی کی اجازت دینے پر تیار ہو، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ ایران "اپنی جوہری صلاحیتوں سے مکمل دست برداری کو کبھی قبول نہیں کرے گا"۔
اگرچہ کیھان نے یہ ممکنہ لچک پیش کی، تاہم اس نے کہا کہ کسی بنیادی تبدیلی کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ "کوئی معجزہ نہیں ہونے جا رہا، یہ کوئی سنہری موقع نہیں، بلکہ آخری امید کی ایک باریک سی ڈور ہے کہ ٹرمپ اس راستے سے واپس پلٹ آئیں جو واضح طور پر تباہی کی طرف جا رہا ہے"۔
مزید کہا گیا کہ اگر ٹرمپ اس راستے پر بضد رہے، تو یہ نہ صرف خارجہ پالیسی میں سنگین ناکامیوں کا سبب بنے گا بلکہ ان کی اس شبیہ کو بھی توڑ دے گا جو وہ ایک "ماہر سوداگر" کے طور پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔
اخبار نے ٹرمپ کے لیے ذاتی سطح پر انتباہ دیتے ہوئے اپنے مضمون کا اختتام کیا کہ ان کے سیاسی انجام پر بھی ممکن ہے کہ آخر کار وہی تحقیر آمیز اور سخت الفاظ صادق آ جائیں جو انھوں نے جو بائیڈن کے لیے کہے تھے یعنی "انتہائی تباہ کن احمق" ...!
ایرانی اخبار "کیھان" کا یہ مضمون ایسے وقت شائع ہوا ہے جب ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات پر متعدد تیز رفتار پیش رفتوں کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایک جانب سابق صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد ثانوی پابندیاں ہیں، تو دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات میں یورینیئم کی افزودگی روکنے پر زور دیا گیا ہے، ساتھ ہی امریکی وزیر دفاع نے ایران کی جانب سے حوثی گروہ کی حمایت جاری رکھنے پر سخت وارننگ بھی دی ہے۔ ان تمام اقدامات سے ایران کے حوالے سے امریکی موقف کی سختی واضح ہوتی ہے۔
ایران کے ساتھ چوتھے دور کے جوہری مذاکرات کے مؤخر ہونے سے مذاکرات کی سنجیدگی پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس سے یہ تاثر تقویت پا رہا ہے کہ یہ مذاکرات ناکامی کے دہانے پر ہیں، جس کے نتائج پر قابو پانا شاید ممکن نہ ہو۔
-
ایران روس یا امریکہ کو یورینیم منتقل کرنے کے لیے تیار ہے: رپورٹ
ایک ایرانی عہدیدار نے "رائٹرز" کو انکشاف کیا ہے کہ یورینیم کے ذخیرے کا حجم، اسے ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ انتظامیہ نے جلد معاہدے کے لیے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کر لیا
ایران -امریکہ مذاکرات کے فریق بشمول سلطنت عمان واشنگٹن اور تہران کے درمیان ...
بين الاقوامى -
ایران کو یورینیم کی افزودگی سے 'دستبردار' ہونا چاہیے: روبیو
روبیو کے تبصرے دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کی نشاندہی کرتے ہیں
بين الاقوامى