بھارت اور پاکستان کے درمیان الزامات اور ذمے دار ٹھہرانے کے بیانات کے تبادلے کے دوران اور دونوں جوہری ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے تازہ واقعات کے پس منظر میں، پاکستانی حکومت نے عالمی برادری سے امن و امان قائم کرنے میں مدد کی اپیل کی ہے۔
پاکستانی وزارتِ اقتصادی امور نے جمعہ کے روز "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک پیغام میں بین الاقوامی شراکت داروں، بشمول عالمی بینک، سے مزید قرضوں کی فراہمی کی اپیل کی۔ بیان میں کہا گیا کہ "ملک کو دشمن کی جانب سے بدھ کے روز کی گئی فوجی کارروائیوں کے بعد بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔" مزید کہا گیا کہ "جنگ کے بڑھنے اور اسٹاک مارکیٹوں کے گرنے کی صورت حال میں، ہم بین الاقوامی شراکت داروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حالات کو پرسکون کرنے میں مدد دیں"۔
یہ بات برطانوی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔
تاہم بعد ازاں پاکستانی وزارتِ اقتصادی امور نے وضاحت جاری کی کہ ایسی کسی اپیل میں کوئی صداقت نہیں ہے، اور یہ بھی بتایا کہ ان کا "ایکس" پر موجود سرکاری اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا تھا، جس کے ذریعے یہ بیان جاری کیا گیا۔
ادھر واشنگٹن میں پاکستانی سفیر رضوان سعید نے بتایا کہ دونوں ملکوں نے اپنی، اپنی قومی سلامتی کونسلوں کی سطح پر باہمی رابطے کیے ہیں۔ تاہم انھوں نے امریکی نشریاتی ادارے "سی این این" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دو دن سے جاری جھڑپوں کے بعد تناؤ کم کرنے کی ذمے داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔
پاکستانی وزیر اطلاعات نے ان رپورٹوں کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ کے ایف-16 یا جے ایف-17 طیارے تباہ ہوئے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ "یہ خبریں بے بنیاد ہیں"۔
وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے بھارتی کشمیر میں کسی قسم کی کارروائی نہیں کی، اس طرح بھارت کے ان الزامات کی تردید کی کہ پاکستان نے بھارتی علاقے میں حملے کیے۔
دوسری طرف، بھارتی فوج نے "ایکس" پر جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات پاکستانی مسلح افواج نے ڈرونز اور دیگر گولہ بارود کے ذریعے بھارت کی مغربی سرحد پر کئی حملے کیے۔
گذشتہ دو روز کے دوران اسلام آباد اور نئی دہلی نے ایک دوسرے پر ڈرون حملوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔
اس دوران پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے خبردار کیا ہے کہ "جوابی کارروائی اب تقریباً یقینی ہو چکی ہے"، یہ بیان دونوں ہمسایہ جوہری ممالک کے درمیان مسلسل دوسرے دن جاری شدید جھڑپوں کے دوران سامنے آیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ دو دن سے جاری ان جھڑپوں میں اب تک تقریباً 40 افراد جان سے جا چکے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کا آغاز 22 اپریل کو اُس وقت ہوا جب بھارتی زیر انتظام کشمیر میں مسلح افراد نے 26 افراد کو ہلاک کر دیا۔ نئی دہلی نے اس حملے کا الزام اسلام آباد پر عائد کیا، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔