ایران میں قید سویڈش شہری کو دل کا دورہ پڑنے پر علاج کی سہولیات فراہم نہیں کی گئی: وکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سویڈن کے ایرانی نژاد ماہر تعلیم احمد رضا جلالی کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد علاج کی سہولت فراہم کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ اس امر کا اظہار احمد رضا جلالی کی سویڈش وکیل نے پیر کے روز کیا ہے۔

خیال رہے احمد رضا جلالی کو 2017 میں جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی اور جیل میں ہوتے ہوئے انہیں سویڈن کی شہریت دی گئی تھی۔

احمد رضا کی اہلیہ نے جمعہ کے روز بتایا کہ احمد رضا جلالی کو ایون جیل میں دل کا دورہ پڑا ہے۔

سویڈن میں احمد رضا کی وکیل نیما رستی نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ ان کے مؤکل کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد ابھی تک صحت کی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ حالانکہ ایسی صورتحال میں مریض کے ٹیسٹ بشمول 'الیکٹرو کورڈیوگرام' کرایا جانا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن صحت سے متعلق کسی قسم کی سہولت ابھی تک فراہم نہیں کی گئی ہے۔

وکیل کے مطابق جمعہ کے روز ایک ڈاکٹر نے جبکہ پیر کے روز ماہر امراض دل نے احمد رضا جلالی کو دل کا دورہ پڑنے کی تصدیق کی ہے۔

نیما رستی نے کہا کہ احمد رضا کی نبض سست چل رہی ہے اس کے باوجود انہیں علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔

سویڈن کی وزیر خارجہ ماریہ مالمر نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ سے اس سلسلے میں فوری طور پر بات کی ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ احمد رضا کو فوری طور پر خصوصی نگہداشت فراہم کی جائے۔ سویڈش وزیر خارجہ کی طرف سے یہ مطالبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری کی گئی پوسٹ میں کیا گیا ہے۔ نیز احمد رضا کی رہائی کا بھی اس پوسٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سویڈن پر تعلقات کی خرابی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ احمد رضا جلالی کو طبی نگہداشت تک رسائی حاصل تھی۔

عباس عراقچی نے سویڈن ہم منصب سے ان امور پر غور کرنے کا مطالبہ کیا جس سے ایران و سویڈن کے تعلقات اس سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے سزا یافتہ مجرم کو سویڈن کی شہریت دینے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں