بھارت اور پاکستان کے فوجی کارروائیوں کے سربراہان پیر کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد آئندہ اقدامات کے بارے میں بات کریں گے۔ جنگ بندی کے نتیجے میں تقریباً تین عشروں کی شدید ترین لڑائی کے بعد سرحد پُرامن ہو گئی۔
جنگ بندی کی کچھ ابتدائی خلاف ورزیوں کے بعد تمام رات دھماکوں یا میزائلوں کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ بھارتی فوج نے کہا کہ اتوار کو سرحد کے ساتھ حالیہ دنوں میں پہلی پرامن رات تھی اگرچہ بعض سکول بند ہیں۔
ہمالیائی علاقے میں ہفتے کے روز جنگ بندی جس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا، دونوں ممالک کے درمیان شدید حملوں اور سفارت کاری اور واشنگٹن کے دباؤ کے بعد ہوا۔
بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ان کی فوج نے گذشتہ روز جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اتوار کو پاکستان کو ایک "ہاٹ لائن" پیغام بھیجا جس میں ایسے مزید واقعات کا جواب دینے کے لیے نئی دہلی کا ارادہ ظاہر کیا گیا۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے اپنی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی کی تردید کی۔
ہفتہ کو ایک بیان میں بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ دونوں اطراف کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز پیر کو 1200 بجے (0630 جی ایم ٹی) ایک دوسرے سے بات کریں گے۔
پاکستان نے کال کے منصوبے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
روایتی حریفوں نے ایک دوسرے کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا تھا جس میں درجنوں شہری ہلاک ہو گئے۔
بھارت نے گذشتہ ماہ کے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا جبکہ پاکستان نے اس کی تردید کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
بھارت نے کہا کہ اس نے بدھ کے روز پاکستان اور پاکستانی کشمیر میں 'دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے' کے نو مراکز پر حملے کیے لیکن اسلام آباد نے کہا ہے کہ یہ شہری مقامات تھے۔
جہاں اسلام آباد نے جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے پر واشنگٹن کا شکریہ ادا کیا ہے اور ٹرمپ کی جانب سے بھارت کے ساتھ تنازعہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے، وہیں نئی دہلی نے جنگ بندی یا غیر جانبدار مقام پر ہونے والے مذاکرات میں امریکہ کی شمولیت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا یا اس سے انکار کیا ہے۔
بھارت جس کا خیال ہے کہ پاکستان کے ساتھ تنازعات ہمسایوں کو براہِ راست حل کرنا ہوں گے، نے مذاکرات میں کسی تیسرے فریق کی شمولیت کو مسترد کر دیا ہے۔
بھارت 1989 میں اپنے حصے کے کشمیر میں شروع ہونے والی شورش کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے لیکن پاکستان نے کہا ہے کہ وہ کشمیری علیحدگی پسندوں کو صرف اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے۔