خصوصی کوریج

سعودی ولی عہد اور ٹرمپ کے درمیان اقتصادی شراکت داری کا تاریخی معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج منگل کے روز دارالحکومت ریاض میں اليمامہ محل میں ایک تاریخی دستاویز پر دستخط کرتے ہوئے اقتصادی شراکت داری کو باقاعدہ طور پر نئی جہت دے دی ہے۔

اس موقع پر سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کا آغاز ہوا، جن کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ٹرمپ آج صبح صدارتی طیارے پر ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچے۔ ان کے طیارے کو سعودی فضائیہ کے "ایف 15" لڑاکا طیاروں نے بحفاظت ریاض تک پہنچایا، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سکیورٹی تعاون کا عملی اظہار ہے۔

ولی عہد کی مارکو روبیو سے ملاقات

امریکی صدر کے ہمراہ ایک بڑا سرکاری وفد بھی موجود تھا، جس میں وزرا اور اعلیٰ حکام شامل تھے۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں اپنے دورہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کو "تاریخی نوعیت" کا حامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ خطے میں امن و استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

سعودی کابینہ نے اپنے حالیہ اجلاس میں امریکی صدر کے سرکاری دورے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ دورہ دونوں دوست ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کو مزید مضبوط بنائے گا اور اقتصادی، سیاسی، دفاعی اور تجارتی میدانوں میں تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ صدر ٹرمپ کا دوسری مدت صدارت میں پہلا بیرونِ ملک دورہ ہے۔ آٹھ سال قبل بھی انہوں نے اپنے پہلے صدارتی غیر ملکی دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا تھا، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور گہرے تعلقات کی ایک اور علامت ہے۔

سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے جیوپولیٹیکل کردار، علاقائی قیادت اور تاریخی تجارتی روابط نے ہمیشہ امریکہ کو اس تعلق کو ترجیحی بنیادوں پر برقرار رکھنے پر آمادہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کےصدر نے اپنے پہلے غیرملکی دورے کا آغاز سعودی عرب سے کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں