امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نئی شامی حکومت کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے قبل اُنھوں نے اپنے اتحادی اسرائیل سے مشاورت نہیں کی، حالاں کہ صدر احمد الشرع کی حکومت پر اسرائیل کو شدید تحفظات ہیں۔
ٹرمپ نے خلیجی ممالک کے چار روزہ دورے کے اختتام پر ابوظبی سے واپسی کے دوران صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "میں نے اس معاملے میں اُن سے مشورہ نہیں کیا۔ میرا خیال تھا کہ یہ درست فیصلہ ہے، اور مجھے اس پر خوب سراہا گیا۔ ہم شام کی کامیابی چاہتے ہیں"۔
صدر ٹرمپ نے اپنی ریاض میں موجودگی کے دوران شامی حکومت پر عائد پابندیاں اٹھانے کا اعلان کیا، جس پر سعودی ولی عہد سے بات چیت کے بعد اتفاق ہوا۔ انھوں نے صدر الشرع سے ملاقات سے قبل کہا کہ پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ شامی عوام کو ایک نئی امید دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
امریکی ویب سائٹ "axios" کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹرمپ سے اپیل کی تھی کہ شام پر سے پابندیاں نہ ہٹائی جائیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نہ صرف اسرائیل کو اس فیصلے سے پہلے مطلع نہیں کیا بلکہ صدر احمد الشرع سے ملاقات کے فیصلے سے بھی آگاہ نہیں کیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کے دوران شام پر پابندیاں برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا تھا اور شام میں ترکی کے کردار پر تشویش بھی ظاہر کی تھی۔
واضح رہے کہ شام میں 2011 میں جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ نے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت پر درجنوں پابندیاں عائد کر دی تھیں، جن کی وجہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بتائی جاتی تھیں۔ لیکن دسمبر میں الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے نئی شامی قیادت ان پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی تھی، کیوں کہ یہ پابندیاں معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں اور تعمیر نو کے عمل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔