بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے استغاثہ نے ججز پر زور دیا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیرِ دفاع کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کے لیے اسرائیل کی درخواست مسترد کر دیں جبکہ عدالت غزہ اور مغربی کنارے پر اپنے دائرہ اختیار پر نظرِ ثانی کر رہی ہے۔
بدھ کو آئی سی سی کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی 10 صفحات پر مشتمل تحریری دستاویز میں استغاثہ نے کہا ہے کہ نیتن یاہو اور یوآو گیلنٹ کے زیرِ التواء وارنٹ واپس لینے یا ان سے دستبرداری یا دوبارہ طلبی کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
وارنٹ نومبر میں جاری کیے گئے تھے جب ججز کو پتا چلا کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف "کافی شواہد" تھے کہ انہوں نے غزہ میں
انسانی امداد پر پابندی لگا کر "بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر" استعمال کیا اور حماس کے خلاف اپنی مہم میں شہریوں کو دانستہ نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حکام ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
استغاثہ کی دستاویز پر پراسیکیوٹر کریم خان کے دستخط ہیں، جنہوں نے جنسی غلط کاری کے الزامات کی زیرِ التواء تحقیقات کے سلسلے میں جمعہ کو عارضی طور پر استعفیٰ دے دیا۔
عدالتی دستاویز میں استدلال کیا گیا کہ "موجودہ صورتِ حال میں جبکہ جرائم جاری ہیں اور بڑھ رہے ہیں" بنیادی تفتیش کا جاری رہنا ضروری ہے۔
عدالت کے دائرہ اختیار کے حوالے سے ایک اسرائیلی چیلنج پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے گذشتہ ماہ اپیل کے ججز نے ایک پینل کو حکم دیا تھا۔
اسرائیل نے وارنٹ واپس لینے کے لیے اپنی درخواست میں دلیل دی کہ عدالت کے پاس نیتن یاہو اور گیلنٹ کے وارنٹ جاری کرنے کا دائرہ اختیار "نہ ہے اور نہ ہی کبھی تھا"۔
اسرائیل عدالت کا رکن نہیں ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ آئی سی سی کو اسرائیلی اقوام کے خلاف مقدمہ چلانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ تاہم ہیگ میں قائم ادارے نے "فلسطین کی ریاست" کو اپنے 126 رکن ممالک میں سے ایک کے طور پر قبول کر لیا ہے۔
آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان فی الحال اپنے خلاف الزامات کی بیرونی تحقیقات کے اختتام تک رخصت پر ہیں کہ انہوں نے ایک سال سے زائد عرصے تک ایک خاتون معاون کو جنسی تعلقات پر مجبور کرنے کی کوشش کی اور اس کی مرضی کے خلاف اس سے جنسی چھیڑچھاڑ کی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے گذشتہ سال کی گئی ایک تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ عدالت کی دو ملازمین نے مئی 2024 میں عدالت کے آزاد نگران ادارے کو مبینہ بدعنوانی کی اطلاع دی جن میں مبینہ طور پر متأثرہ خاتون نے انکشاف کیا تھا۔
اسرائیلی حکام کے ساتھ ساتھ عدالت نے سات اکتوبر 2023 کے حملے کی بنیاد پر حماس کے مسلح ونگ کے سربراہ محمد الضیف کے لیے بھی وارنٹ جاری کیے۔ یہ وارنٹ فروری میں واپس لے لیا گیا جب اسرائیلی فضائی حملے میں ان کی موت کی تصدیق ہو گئی تھی۔