یورپی رہنماؤں کی جانب سے واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کے اہلکاروں کے قتل کی مذمت
اہلکاروں کو یہودی میوزیم میں تقریب سے نکلتے ہوئے گولی مار دی گئی
واشنگٹن میں یہودی میوزیم کے باہر اسرائیلی سفارت خانے کے دو ملازمین کی ہلاکت کے بعد یورپی رہنماؤں نے جمعرات کو اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اس عمل کو یہود مخالف تشدد کا وحشیانہ اظہار قرار دیا ہے۔
جرمن وزیر خارجہ جوہان واڈے فول نے اس واقعے سے "صدمے" کا اظہار کیا۔
فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نول باروٹ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایکس پر لکھا: "واشنگٹن میں یہودی میوزیم کے قریب اسرائیلی سفارت خانے کے دو ارکان کا قتل یہود دشمن بربریت کا ایک گھناؤنا عمل ہے۔ کوئی بھی چیز اس طرح کے تشدد کا جواز پیش نہیں کر سکتی۔"
اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے "شدید الفاظ میں" فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے اسے "دہشت اور تشدد کے مناظر" کا باعث قرار دیا۔ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا، "یہود دشمنی کو روکنا ضروری ہے۔ ماضی کی ہولناکیوں کو واپس نہیں آنا چاہیے۔"
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے بھی صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ "ہمارے معاشروں میں نفرت، انتہا پسندی یا یہود دشمنی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہونی چاہیے۔" انہوں نے متأثرین کے خاندانوں اور اسرائیل کے عوام سے تعزیت کا اظہار کیا۔