جرمنی کی طرف سے بدھ کے روز اس امر کا دفاع کیا گیا ہے کہ یورپی یونین میں اسرائیل سے متعلق معاہدات کو یورپی ممالک نظر ثانی کی غرض سے زیر بحث لارہے ہیں۔ جرمنی کا یہ بیان یورپی ملکوں کے مؤقف کی تائید کے لیے اس فیصلے سے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں یورپی ممالک نے اسرائیل کی غزہ میں جاری کارروائیوں کو رکوانے کے لیے دباؤ کی خاطر اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کو نئے سرے سے دیکھنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے پہلے میڈیا میں یہ رپورٹس آئی تھیں کہ جرمنی نے اسرائیل کے ساتھ یورپی معاہدوں پر نظر ثانی کے اعلان کی مخالفت کی ہے۔ جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان کرسٹن ویگنر نے کہا کہ 'یورپی یونین - اسرائیل ایسوسی ایشن ایگریمنٹ' ایک اہم فورم ہے۔ جس میں ہمیں اہم سوالات پر غور کرنا لازمی ہے۔ خصوصاً جو غزہ میں صورتحال پیدا ہوئی اس حوالے سے ۔
منگل کے روز بعض یورپی ملک نے اسرائیل سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی جاری ناکہ بندی سے انسانی بحران جنم لے رہا ہے اور اس کے اثرات بہت تباہ کن ہوں گے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کلاس کا کہنا تھا کہ بھاری اکثریت یعنی 27 ارکان نے اسرائیل کے ساتھ معاہدات پر نظر ثانی کرنے کی حمایت کی ہے۔
اس سفارتکار کے مطابق 17 یورپی ممالک نے دباؤ ڈالا کہ یہ جائزہ ایگریمنٹ کے آرٹیکلز کے تحت ہونا چاہیے۔ جو تقاضا کرتا ہے کہ انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔
یاد رہے یہ کوشش ہالینڈ کی تازہ ترین کوششوں کے حصے کے طور پر سامنے آئی ہے۔
اس سے قبل پیر کے روز برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے رہنماؤں نے اسرائیل کی مذمت کی تھی اور اس کے غزہ میں اقدامات کو سخت تباہ کن قرار دیتے ہوئے انتباہ کیا تھا اگر غزہ میں فوجی جارحیت نہ روکی گئی تو خطرناک ہوگا۔