اس وقت جب غزہ کی پٹی اسرائیلی سخت محاصرے میں ہے۔ اس میں داخل ہونے والی انسانی اور امدادی امداد "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن" کی طرف سے تقسیم کیے جانے سے پہلے کئی مراحل سے گزرتی ہے۔ حال ہی میں قائم ہونے والی اور امریکہ کے زیر حمایت اس تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تباہ شدہ فلسطینی پٹی میں خوراک کی امداد پہنچانا شروع کر دی ہے۔
اس تنظیم کی جانب سے کل جاری کی گئی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ امداد سے لدے ٹرک تاروں سے گھری بستیوں میں پہنچائے جا رہے ہیں۔ خوراک کی تقسیم کا نیا طریقہ کار مسلح افراد کی حفاظت میں محدود تعداد میں مراکز تک محدود ہے۔ ان مراکز میں لوگوں کو امداد لینے کے لیے جانا پڑتا ہے۔ فی الحال چار مراکز قائم کیے جا رہے ہیں اور یہ سب اسرائیلی فوجی مقامات کے قریب ہیں۔ ان میں سے تین انتہائی جنوب میں ہیں جہاں فلسطینیوں کی تعداد کم ہے۔ تنظیم نے کہا کہ وہ ہفتے کے آخر تک دس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں تک پہنچنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ منصوبہ کیسے کام کرے گا؟
تنظیم ’’ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پہلے چار مراکز میں سے ہر ایک مرکز تقریباً 300,000 افراد کے لیے کھانا فراہم کرے گا۔ یہ مراکز بالآخر 20 لاکھ افراد کی ضروریات پوری کر سکیں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ 30 دنوں کے اندر مزید مراکز قائم کریں گے اور یہ مراکز غزہ کی پٹی کے شمال میں بھی قائم ہوں گے۔ لیکن تنظیم نے مجوزہ نئے مراکز کے درست مقامات کا نہیں بتایا۔
امدادی سامان نجی شعبے کے ٹھیکیداروں کی مدد سے پہنچایا جائے گا جو بکتر بند گاڑیوں میں سامان کو غزہ کی سرحد سے مراکز تک پہنچائیں گے اور واں بھی سیکیورٹی فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد "مجرم گروہوں یا مسلح افراد کو" امداد کا رخ موڑنے سے روکنا ہے۔
نئے مراکز کی تعمیر
اسی دوران 10 مئی کی سیٹلائٹ تصاویر میں مراکز کی تعمیر کے کام کا بھی پتہ چلا ہے۔ ان تصاویر میں سے ایک وسطی غزہ میں نٹساریم کوریڈور کے قریب ہے جو اسرائیلی افواج کے زیر کنٹرول ایک علاقہ ہے۔ تین دیگر مراکز رفح کے علاقے میں ہیں ۔ یہ موراج کوریڈور کے جنوب میں واقع ہیں۔ یہ کوریڈور فوج کے زیر کنٹرول ایک اور علاقہ ہے۔ پٹی کے زیادہ تر باشندے فی الحال شمالی غزہ میں ہیں۔ انہیں رفح کے قریب مراکز تک پہنچنے کے لیے اسرائیلی فوجی سرحد عبور کرنی ہوگی۔
300 ملین کھانے کے پیکٹ
یاد رہے جنیوا میں واقع یہ امدادی تنظیم، جو چند ماہ قبل قائم ہوئی تھی، نے پہلے 14 مئی کو اعلان کیا تھا کہ وہ 90 دن کی ابتدائی مدت کے دوران غزہ میں تقریباً 300 ملین کھانے کے پیکٹ تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ اور کئی غیر سرکاری تنظیموں نے کہا ہے کہ وہ اس تنظیم کے آپریشنز میں حصہ نہیں لیں گی۔ انہوں نے اس تنظیم پر اسرائیل کے ساتھ کام کرنے کا الزام ہے۔