"غزہ کے راستے کھول دیں، امداد تقسیم کا امریکی طریقہ کار ضروری کاموں سے توجہ ہٹا رہا "

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ نے غزہ پٹی میں امداد پہنچانے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے وضع کیے گئے نئے طریقہ کار پر اپنی تنقید دہرائی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے رابطہ دفتر (OCHA) کے ترجمان جینز لرکے نے آج منگل کو کہا کہ امریکہ کے حمایت سے نجی ادارے "غزہ ریلیف فاؤنڈیشن" کا امداد تقسیم کرنے کا کام درحقیقت مطلوبہ چیزوں سے توجہ ہٹا رہا ہے۔ اسسے راستے کھولنے جیسے امور سے توجہ ہٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس میکانزم میں شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ اس چیز سے توجہ ہٹا رہا ہے جو واقعی مطلوب ہے۔

انہوں نے غزہ کے تمام راستوں کو دوبارہ کھولنے اور ہنگامی امداد کے لیے مزید اسرائیلی منظوریوں کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ غزہ ریلیف فاؤنڈیشن‘‘ نے پیر سے غزہ میں امداد تقسیم کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی پٹی اور مصر اور اسرائیل کی سرحد پر کرم ابو سالم کراسنگ پر درجنوں ٹرک اسرائیلی منظوریوں کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ ان میں سے ایک چھوٹا سا حصہ کل پٹی کے جنوب میں واقع شہر رفح میں داخل ہوا تھا تاہم ’’ العربیہ‘‘ کے نمائندے نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ ابھی تک کسی بھی باشندے کو کچھ نہیں ملا ہے۔

غزہ، اسرائیل اور مصر کی سرحدوں پر کرم ابو سالم کراسنگ سے (اے ایف پی)
غزہ، اسرائیل اور مصر کی سرحدوں پر کرم ابو سالم کراسنگ سے (اے ایف پی)

یہ مطالبہ امدادی اور اقوام متحدہ کی تنظیموں کی جانب سے غزہ بھر میں انسانی اور طبی حالات کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بڑھتی ہوئی انتباہات کے درمیان بھی کیا گیا ہے۔ ’’ غزہ ریلیف فاؤنڈیشن‘‘ جس کے سی ای او جیک وڈ نے گزشتہ اتوار کو اچانک استعفیٰ دے دیا تھا، نے کل ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ آج مزید ٹرکوں کی کھیپ پہنچائی جائے گی۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اس ہفتے کے آخر تک دس لاکھ فلسطینیوں تک امداد تقسیم کی جائے گی۔ وڈ نے اپنے استعفے کے بیان میں انکشاف کیا تھا کہ انہیں یہ احساس ہونے کے بعد عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ تنظیم اپنے "انسانی ہمدردی کے اصولوں" پر قائم رہتے ہوئے اپنا مشن مکمل نہیں کر سکتی۔

واضح رہے جنیوا میں واقع یہ تنظیم، جو فروری سے قائم ہے، نے اپنے آپریشن کے پہلے 90 دنوں کے دوران تقریباً 300 ملین کھانے کے پیکٹ تقسیم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ اور روایتی امدادی ایجنسیوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس کے ساتھ تعاون نہیں کریں گی۔ اقوام متحدہ اور دیگر تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ تنظیم اسرائیلی فوج کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں