پاک بھارت 'رافیل فیم' جنگ کے بعد مودی پہلے دورہ پر متنازعہ ریاست جموں و کشمیر جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان کے ساتھ چار دنوں پر محیط رہنے والی مختصر ترین جنگ کے بعد بھارت میں جاری شدید تنقید کے ماحول میں وزیر اعظم نریندر مودی متنازعہ رہاست جموں و کشمیر جائیں گے۔ یہ پاکستان کے ساتھ 'رافیل فیم ' جنگ کے بعد ان کا کشمیر میں پہلی بار جانا ہوگا جہاں لائن آف کنٹرول پر پچھلے دنوں کافی کشیدگی رہی اور کشمیری عوام بھی بھارتی فوج و دیگر اداروں کی کڑی نگرانی کی زد میں رہے۔

نریندر مودی اپنے طویل دور حکومت کے دوران درپیش ناخوشگوار ترین صورت حال کے بعد موضوعات کی تبدیلی کی خاطر متنازعہ ریاست میں سٹریٹجک اہمیت کی حامل ریلوے کے منصوبے کے افتتاح کے لیے جمعہ کے روز جا رہے ہیں۔ سرکاری طور پر ان کے اس دورے کا اعلان وزیر اعظم بھارت کے دفتر نے بدھ کے روز کیا ہے۔

مسلمانوں کی غالب اکثریت کی حامل یہ متازعہ ریاست جموں و کشمیر بھارتی مسلح افواج کے خصوصی نشانے پر ہے اور 1989 سے یہاں مسلسل چھ سے سات لاکھ فوج تعینات ہے جو بھارتی تاریخ کے طویل ترین فوجی آپریشن میں مصروف ہے۔ اس مسلسل چیلنجگ صورت حال اور اہل کشمیر کے جذبہ آزادی نے بھارتی افواج کو تھکا مارا ہے۔ تاہم یہ جنگی مہم ساڑھے تین عشروں کے بعد بھی جاری ہے۔

کشمیری عوام 1947 سے بھارت سے آزادی کی تحریک چلائے ہوئے ہیں۔ تاہم بھارت کی مودی سرکار نے پانچ اگست دوہزار انیس کو آئین میں ریاست جموں و کشمیر کے لیے مقرر کیا گیا خصوصی درجہ ختم کر کے کشمیریوں کو بھارتی مرکز سے مزید دور کر دیا ہے۔ اسی لیے آج بھی ہزاروں کشمیری بھارتی جیلوں میں ہیں اور کشمیر کے گلی کوچوں اور چوک چوراہوں پر بھارتی فوج تعینات ہے۔

بہر حال نریندر مودی متنازعہ ریاست میں جمعہ کے روز چھ جون کو اس وقت کشمیر پہنچیں گے جب پاکستان کے مختلف شہروں میں کم از کم 9 مقامات پر کیے گئے بھارتی فضائی اور میزائل حملوں کے بعد شروع ہونے والی چار روزہ جنگ کو ٹھیک ایک ماہ ہو جائے گا۔ اس لیے کشمیر آنے کے باوجود ان کے اس دورے پر پاکستان کے ساتھ حالیہ جنگ اور اس کے نتائج میڈیا اور عوام کے زبان زد عام رہیں گے۔ جن کی وجہ سے بھارت کے اپوزیشن لیڈر رہنما راہول گاندھی اب نریندر مودی کو' سرنڈر مودی' کہنا شروع ہو چکے ہیں۔

مگر مودی اس مذمتی شور و غل کو ٹرین کے شور شرابے سے بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے 1315 میٹر لمبے چناب ریلوے پل کا افتتاح کریں گے۔ یہ فولاد اور سیمنٹ سے بنی کنکریٹ سے بنا ہوا ایک پل ہے جس کا افتتاح ہونے جارہا ہے۔ یہ پل دو پہاڑوں کو باہم جوڑے گا اور ریل کا سفر ان بھارتیوں کے لیے آسان تر کر دے گا جو اہل کشمیر کی مشکل ترین زندگی کے بیچ کشمیر آکر بسنے کا سوچ رہے ہیں۔
اس پل کے افتتاح سے ہر طرح کے موسم میں بھارت سے شہری کشمیر میں آسکیں گے ۔

تاہم ابھی یہ مشکل لگتا ہے کہ انہیں یہاں پہنچ کر آسان زندگی ملے گی یا ان کی وجہ سے اہل کشمیر کو ۔ کیونکہ پچھلے ہی دنوں بھارت کی مودی سرکار کو بھارت کے مختلف علاقوں سے متنازعہ ریاست لا کر رکھے گئے بھارتی شہریوں کو واپس بھارت لے جانے کے لیے خصوصی ٹرینیں چلانا پڑی تھیں۔

کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ چار روزہ جنگ 1999 کے بعد ایک مشکل ترین اور کشیدہ ترین موقع بن گئی اور کشمیری عوام بھی ایک بار پھر بھارتی قابض فورسز کی کڑی نگرانی میں آگئے۔ تاہم دس مئی کو بھارت نے جنگی بندی قبول کرنے کا امریکی مداخلت کے باعث فیصلہ کر لیا۔

272 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک میں 36 سرنگیں اور 349 پل ہیں۔ اس تعمیر کا مقصد علاقائی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ سماجی، سیاسی ، اقتصادی و فوجی رابطوں کو آگے بڑھانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں