برطانیہ کو خون کے ایک ملین عطیات کی فوری ضرورت، ہسپتالوں کو شدید قلت کا سامنا

برطانیہ کو خون کے ایک ملین عطیات کی فوری ضرورت، ہسپتالوں کو شدید قلت کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانیہ میں صحت کے شعبے کو ایک غیرمعمولی بحران کا سامنا ہے، جہاں خون کے ذخائر میں مسلسل کمی کے باعث حکام نے ایک ملین باقاعدہ خون عطیہ کرنے والوں کی تلاش میں فوری اپیل جاری کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو "ریڈ الرٹ" جاری کرنا پڑ سکتا ہے، جو ملک گیر سطح پر صحت عامہ کے خطرے کی علامت ہوگا۔

برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کی جانب سے شروع کی گئی اس وسیع مہم کا مقصد ملک بھر میں خون عطیہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ طلب کو پورا کرنے کے لیے روزانہ کم از کم پانچ ہزار عطیات درکار ہیں، جب کہ پچھلے سال صرف آٹھ لاکھ افراد نے خون دیا، جو کہ اہل بالغ آبادی کا محض دو فیصد ہے۔

اخبار "میٹرو" کے مطابق، 2024 ءمیں خون کی قلت کے باعث ہسپتالوں میں "یلو الرٹ" جاری کیا گیا تھا، مگر اس کے باوجود خون کے ذخائر معمول کی سطح تک نہیں پہنچ سکے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر دو لاکھ اضافی عطیات درکار ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کی جا سکیں اور اُن عطیہ دہندگان کا متبادل بھی تیار کیا جا سکے جو عمر یا طبی مسائل کے باعث مزید خون نہیں دے سکتے۔

نیشنل ہیلتھ سروس کے تحت قائم ادارہ برائے خون و اعضاء نے برطانوی عوام سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ریڈ الرٹ" سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ برس عطیات کے لیے رجسٹریشن میں اضافہ ہوا، مگر صرف 24 فیصد افراد نے عملاً خون دیا۔

قانون کے مطابق، برطانیہ میں مرد ہر 12 ہفتے اور خواتین ہر 16 ہفتے بعد خون دے سکتی ہیں، کیونکہ ان کے خون میں آئرن کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔

خون کی فراہمی نہ صرف ایمرجنسی کی صورت میں اہم ہے، بلکہ سرطان، اعضا کی پیوندکاری، فقر خون منجلی، تھلیسیمیا اور سرطان خون جیسے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے بھی یہ زندگی کا سہارا ہے۔

آخری مرتبہ جولائی 2024ء میں خون کی قلت پر "شدید ضرورت" کا انتباہ جاری کیا گیا تھا، خاص طور پر ان افراد کے خون کی جن کا گروپ "O-" ہوتی ہے، جو ہنگامی حالت میں فوری طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سیاہ فام برطانوی شہریوں میں وہ مخصوص خون کی فصلیت زیادہ پائی جاتی ہے جو فقر خون منجلی کے مریضوں کے علاج کے لیے اہم ہے، اس لیے اس کمیونٹی میں عطیات کی مزید ضرورت ہے۔

نیشنل ہیلتھ سروس کی سربراہ ڈاکٹر جو فارار نے کہا کہ"ہزاروں افراد ہمارے ساتھ خون عطیہ کر کے قیمتی جانیں بچا رہے ہیں۔ آپ ہمارے ہیرو ہیں۔ اگر ایک ملین افراد باقاعدگی سے خون دیں تو نہ صرف ہمارے ذخائر مستحکم ہو سکتے ہیں بلکہ ہزاروں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ آج ہی وقت لیں، اور انسانیت کی خدمت کے اس خوبصورت تجربے میں شامل ہوں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں