لندن سے کشتی پر حج کے لیے آنے والوں کی مناسک حج ادا کرتے ہوئے خوشی دوبالا رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

برطانوی ملاح سفر حج مکمل کرتے ہوئے مئی کے اواخر میں جدہ پہنچے تو ان کا سعودی حکام نے خیر مقدم کیا اور تعریف کی۔ ان بحری راستے سے سفر حج کرنے والوں میں سے اس سے قبل کسی کا بھی بحری سفر کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔
اس لیے انسٹھ دنوں تک سمندری لہروں کے ساتھ رہنا اور پانی میں اپنا راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جانا ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ یہ مہم جوئی بھی جو چھ عازمین حج کے گروپ نے کی تھی۔ ان چھ عازمین حج کی عمریں 27 سال سے47 سال کے درمیان تھیں۔

ان کے لندن سے سفر کا یکم اپریل کو آغاز ہوا اور مناسک حج کی ادائیگی سے محض چند روز قبل یعنی ستائیس مئی کو جدہ پہنچے۔ ان چھ افراد میں سے مختلف پیشوں سے وابستہ افراد کا ایک خوب صورت گلدستہ تھا جس میں آئی ٹی سے وابستہ افراد کے علاوہ دیگر کئی شعبوں کے وابستگان عبدالواحد، توصیف احمد، جوڈی میکانٹائر، دبیر الدین، طاہر اختر، اور ایاز خان شامل تھے-

انہوں نے اپنے اس غیر معمولی سفر کے دوران یورپ اور شمالی افریقہ میں کئی اسٹاپ کیے اور بالآخر جدہ پہنچنے میں کامیاب رہے۔ سمندری سفر ان کے لیے بہت کچھ سیکھنے کا رہا اور صبر کے کئی اور معانی بھی سیکھ لیے ۔نیز سوشل میڈیا پر اپنے فالو کرنے والوں کو بھی پوسٹ اور تصاویر شیئر کر کے انہیں اپنے ساتھ ساتھ انہیں سمندری سفر کی کہانی سے روشناس رکھا۔ اس سفر کا ہر لمحہ سوچ میں وسعت اور زندگی میں تبدیلی کا سبب بنتا رہا۔

اس سفر کے کپتان عبدالواحد

واحد کے مطابق یہ سفر ایک یادگار اور زندگی بدل دینے والا تجربہ تھا۔ سفر کی تکمیل کے وقت کے لمحات پسندیدہ ترین بن گئے۔ کہ اس وقت ہم دور سے سعودی عرب کے پہاڑوں کو دیکھ سکتے تھے۔ یہ سعودی عرب پہنچنے کی پہلی نشانی تھی۔ سفر کا یہ اخری مرحلہ خلیج سویز سے روانگی کے بعد ایا تھا۔ یوں طوفانوں سے گزرنے اور نمٹتے چلے آنے کے بعد گویا منزل مل رہی تھی۔ یہ خوشی غیر معمولی تھی۔
حج کے اپنے تجربے کے بارے میں عبدالواحد نے کہا غیر معمولی طور پر ہمارا خیال رکھا گیا ۔ اس سلسلے میں متعلق حکام اور آرگنائزرز کے ممنون ہیں۔ سعودی حکام حجاج کے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک کرتے ہیں اور خوب مہمان نوازی سے کام لیتے ہیں۔ انتظامات ہر طرح سے فرسٹ کلاس ملے ۔ جس سے ساری تھکن ختم ہو گئی۔
ہر جگہ سعودی رضاکار ہماری مدد اور سہولت کے لیے موجود ملے ہیں۔ ایمولینسز ہماری صحت کی فکر میں جگہ جگہ کھڑی کی گئی ہیں۔ پینے کا پانی، کھانے کا انتظام اور رہائش سب بندوبست بہترین رہے۔

علاوہ ازیں پولیس، سیکیورٹی اور فائر بریگیڈ کے قائم کردہ فائر سٹیشنز جگہ جگہ موجود ہیں کہ کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹا جا سکے۔ اس سب کچھ نے حج کو بہت پر لطف بنا دیا۔

بحری سفر ممکن بنانے والے عملے کے ایک رکن ایاز خان نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'بحری راستے سے حج پر جانے کا فیصلہ ایک چیلنج تھا ۔ لیکن مقصد یہ تھا کہ حج کے روحانی پہلو کو پایا جائے۔ اس لیے سب خوب رہا۔'

خان نے ساحل پر اپنے استقبال کا احوال بھی بیان کیا اور منتظر گہرے استقبال کے بارے میں کہا ' استقبال ہمارے تصور سے زیادہ اچھا تھا۔ ہم خوش تھے کہ خواب پورا ہو گیا ہے۔ کیونکہ میرے خاندان سے اس سے پہلے کوئی حج پر نہیں گیا تھا۔ ایک خواب پورا ہوا۔ جب میری والدہ کو معلوم ہوا کہ ہم کشتی رانی کرتے ہوئے حج کے لیے جا رہے ہیں تو وہ کچھ پریشان سی ہو گئیں۔ لیکن انہیں بھی خوشی تھی کہ یہ ایک مقدس سفر ہے۔ '

یہ قافلہ بحیرہ روم کے جزیروں کورسیکا، سارڈینیا، سسلی اور کریٹ سے ہوتا ہوا آگے بڑھا۔ جدہ پہنچنے سے پہلے وہ نہر سویز اور بحیرہ احمر سے گزرے۔

ایاز خان نے کہا کہ 'بحری سفر نے عملے اور سب کو باور کرا دیا تھا کہ روحانی مقصد کے حصول کے لیے ہمیں پانیوں پر سفر کرنا ہوگا۔ خطرے بھی آئیں گے اور خوبصورت مناظر بھی ملیں گے۔ سب سے اہم یہ کہ اللہ کی خوشنودی ملے گی۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں