نیٹو کو فضائی اور میزائل دفاع کی مد میں 400 فیصد اضافے کی ضرورت: سیکریٹری جنرل نیٹو
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے پیر کو لندن میں ایک تقریر میں اس ضرورت پر زور دیں گے کہ فوجی اتحاد کو فضائی اور میزائل دفاع میں 400 فیصد اضافہ درکار ہے۔ یہ اس ماہ کے آخر میں دی ہیگ میں اراکین کے سربراہی اجلاس کی ترجیحات میں سے ایک ہے۔
روٹے اراکین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 3.5 فیصد تک بڑھائیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پانچ فیصد ہدف کے مطالبے کو پورا کرنے کی غرض سے سلامتی سے متعلق وسیع تر اخراجات کے لیے مزید 1.5 فیصد کا عہد کریں۔ گذشتہ ماہ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں 24-25 جون کو ہونے والی سربراہی کانفرنس میں ہدف پر اتفاق کیا جائے گا۔
روٹے لندن کے چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک میں ایک تقریر میں بحث کریں گے کہ قابلِ اعتماد ڈیٹرنس اور دفاع کو برقرار رکھنے کے لیے نیٹو کو "فضائی اور میزائل دفاع میں 400 فیصد اضافے کی ضرورت ہے۔"
ان کے دفتر کی فراہم کردہ تقریر کے اقتباسات کے مطابق وہ کہیں گے، "ہم یوکرین میں دیکھتے ہیں کہ کس طرح روس فضا سے دہشت گردی کرتا ہے اس لیے ہم اس ڈھال کو مضبوط کریں گے جو ہماری فضاؤں کی حفاظت کرے۔"
انہوں نے مزید کہا، "حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اپنے اجتماعی دفاع میں بہت بڑے اضافے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے دفاعی منصوبوں کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے ہمارے پاس مزید قوتیں اور صلاحیتیں ہونی چاہئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یوکرین کی جنگ ختم ہونے پر بھی خطرہ ختم نہیں ہو گا۔"
جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں کوئی خاص کمی نہیں آئی تو ٹرمپ کی جانب سے پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دینے کے بعد یورپی ممالک دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ کا شکار ہیں تاکہ خطہ اپنی حفاظت کو بہتر بنائے۔
کئی ممالک نے ایسا کرنے کا کہا ہے اور برطانیہ نے 2027 تک جی ڈی پی کے 2.3 فیصد سے بڑھ کر 2.5 فیصد اور بعد ازاں تین فیصد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ جرمنی نے کہا ہے کہ نیٹو کے نئے اہداف کے تحت اسے تقریباً 50,000 سے 60,000 اضافی فعال فوجیوں کی ضرورت ہو گی۔