آسٹریا میں فائرنگ سے 10، فرانس میں چاقو کے وار سے ایک شخص ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

منگل کو دو الگ الگ واقعات میں آسٹریا کے شہر گریز میں ایک سکول کے اندر مسلح حملے میں 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ادھر فرانس میں ایک سکول کے پرنسپل کو ایک طالب علم نے چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا۔ آسٹرین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ORF) نے مقامی پولیس کے حوالے سے بتایا کہ طلبہ اور اساتذہ سمیت متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ مشتبہ طالب علم نے خودکشی کرلی۔ پولیس نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ حکام نے ابھی تک حملے کے محرکات یا متاثرین اور حملہ آور کی شناخت کا اعلان نہیں کیا ہے۔

دریں اثنا ایجنسی فرانس پریس کے مطابق ایک اور واقعے میں مشرقی فرانس کے قصبے نوجینٹ میں ایک طالب علم نے سکول کے پرنسپل کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ 31 سالہ پرنسپل کو بیگ کی تلاشی کے دوران چھرا گھونپ کر مارا گیا۔

شامی پناہ گزین

گزشتہ فروری میں جنوبی آسٹریا میں ایک حملے میں ایک 14 سالہ لڑکا ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق ایک 23 سالہ شامی پناہ گزین کو گرفتار کیا گیا تھا۔

آسٹریا کے وزیر داخلہ گیرہارڈ کارنر نے حملے کو "داعش سے متعلق" قرار دیا تھا۔ یہ حملہ ولاچ شہر میں ہوا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ یہ ایک داعش سے منسلک حملہ ہے۔ مشتبہ شخص ایک 23 سالہ شامی پناہ گزین ہے۔ وہ کچھ عرصہ میں آن لائن رابطوں کے باعث بنیاد پرست بن گیا تھا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا جب ایک اور شامی اور ایک ڈیلیوری ورکر نے مداخلت کی تھی۔

معلوم ہوا کہ پناہ کے متلاشی کے پاس درست کاغذات تھے اور وہ پولیس کو مطلوب نہیں تھا۔ 2020 میں ایک بنیاد پرست شخص نے ویانا میں کئی دہائیوں میں ملک میں سب سے مہلک اجتماعی فائرنگ میں چار افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ یاد رہے آسٹریا میں ایسے حملے بہت کم ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں