ایران غزہ کے قیدیوں کے مذاکرات میں شامل ہے: ٹرمپ

تجویز کے تحت 28 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا ہے کہ ایران ان مذاکرات میں شامل ہے جن کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے بدلے جنگ بندی معاہدہ طے کرنا ہے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سٹیٹ ڈائننگ روم میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "غزہ اس وقت ہمارے اور حماس اور اسرائیل کے درمیان وسیع پیمانے پر مذاکرات کے وسط میں ہے۔ ایران درحقیقت اس میں شامل ہے اور ہم دیکھیں گے کہ غزہ کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ہم قیدیوں کو واپس لانا چاہتے ہیں۔"

ٹرمپ نے اس معاملے کی وضاحت نہیں کی اور وائٹ ہاؤس نے مذاکرات میں ایران کے شامل ہونے کی تفصیلات کے لیے درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن نے بھی تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

امریکہ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ اسرائیل نے کہا کہ وہ شرائط کی پابندی کرے گا لیکن حماس نے ابھی تک اس منصوبے کو مسترد کیا ہے۔

اس تجویز کے تحت 28 اسرائیلی زندہ اور مردہ قیدیوں کو پہلے ہفتے میں 1,236 فلسطینی قیدیوں اور 180 مردہ فلسطینیوں کی باقیات کے بدلے رہا کیا جائے گا۔

امریکہ اور ایران الگ مذاکرات میں تہران کے جوہری پروگرام پر ایک معاہدہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں