امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے اعلان کیا ہے کہ وہ 22 جون کو اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کرنے کے لیے اسرائیلی دورے پر جا رہے ہیں۔
انہوں نے اس سلسلے میں جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی فوجی شراکت داری اور تجارتی تعلقات سے سے بھی بڑھ کر گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔
یاد رہے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے سلسلے میں امریکہ کا فوجی تعاون اور اسرائیل کے لیے امداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ حتیٰ کہ اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے محض چند روز پہلے امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کے لیے قرارداد کو 5ویں بار ویٹو کیا ہے۔
ایوان نمائندگان کے سپیکر کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کی امکانی طور پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ یروشلم میں ایک ملاقات ہوگی۔ تاہم مائیک جانسن نے اس دورے کی مزید کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
مبصرین کے مطابق مائیک جانسن کا اسرائیل کا ایسے موقع پر دورہ جب اسرائیلی فوج نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اپنی جنگی جارحیت کو شدید تر کر رکھا ہے اور کئی یورپی ملک بھی اسرائیل کے اس حد تک جانے کے حق میں نہیں ہیں، اسرائیل کے لیے غیر معمولی اہمیت اور فائدے کی بات ہوگی۔
20 ماہ سے زیادہ عرصے پر پھیلی اس جنگ کے دوران اب تک لگ بھگ 55 ہزار فلسطینی اسرائیلی فوج نے قتل کیے ہیں۔ جن میں زیادہ تر قتل کیے گئے بچے اور عورتیں ہیں۔ آج کل اسرائیلی فوج اقوام متحدہ کی شدید ناراضگی کے باوجود فلسطینیوں کے خلاف بھوک کا ہتھیار بھی استعمال کر رہی ہے۔
اس پس منظر میں منگل کے روز برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور ناروے نے انتہا پسند اسرائیلی وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ اور داخلی امور کے انتہا پسند وزیر ایتمار بین گویر کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان پابندیوں کی وجہ ان کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو ملنے والی نئی دھمکیاں بنی ہیں۔ تاہم امریکہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعلق کم یا کمزور کرنے کو تیار نہیں ہے۔