نیویارک: امیگریشن پالیسی کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف نیویارک میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی ہے۔ 'امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ' کے چھاپوں کے بعد امریکہ میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا ہے۔

احتجاجی مظاہرین نعرے لگا رہے تھے 'کوئی نفرت نہیں، کوئی خوف نہیں، تارکین وطن کو یہاں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔'

مظاہرین فولے سکوائر میں جمع تھے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں سے جمعہ کے روز تارکین وطن کو حراست میں لیا گیا تھا۔

خیال رہے فیڈرل امیگریشن پولیس کے تارکین وطن کے خلاف چھاپوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

مظاہرے میں شامل ایک خاتون نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا 'میں ان لوگوں کے لیے یہاں موجود ہوں جن کے پاس یہاں آنے کے لیے آواز نہیں ہے۔ خاص طور پر میری والدہ۔ درحقیقت یہ ملک تارکین وطن کے بغیر ایسا نہ ہوتا۔ اسی لیے میں ان کے لیے یہاں احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوں۔'

23 سالہ جیکولین نے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا 'میں اپنے خاندان کے دفاع کے لیے یہاں موجود ہوں۔ مجھے ایسے معاشرے سے ڈر لگتا ہے جہاں میں اپنے خاندان والوں کے حوالے سے خوفزدہ ہوں۔'

نیو یارک کے میئر ایرک ایڈمز نے منگل کے روز کہا ہے کہ لاس اینجلس میں ہونے والے احتجاج ناقابل قبول ہیں۔ نیو یارک میں ایسے مظاہروں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیو یارک پولیس کسی بھی قسم کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ خاص طور پر ایسے ماحول میں جب معاشرے میں تقسیم کی صورتحال ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں