امریکی ہنگامی اقدامات ایران کے ساتھ مذاکرات بہتر بنانے کی کوشش ہیں : مغربی عہدے دار
مشرق وسطیٰ سے امریکی سفارت کاروں اور فوجی اہل کاروں کے خاندانوں کے انخلاء کے بعد ... ایران کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ خطرناک نہیں ہے
ایک مغربی سیکیورٹی عہدے دار نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ آئندہ اتوار کو مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے چھٹے دور سے قبل ... اپنے مذاکراتی موقف کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ یہ بات العربیہ اور الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی گئی۔
دوسری طرف ایک اعلیٰ ایرانی عہدے دار نے امریکی فوجی اور سفارتی اہل کاروں کے اہلِ خانہ کو مشرق وسطیٰ سے نکالنے کے اقدام کو کوئی خطرہ قرار نہیں دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان رپورٹوں پر تبصرہ کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ سے اپنے سفارتی اور فوجی اہل کاروں کے خاندانوں کو منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "یہ اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں کیوں کہ موجودہ کشیدگی کے ماحول میں یہ علاقہ خطرناک ہو سکتا ہے۔" اُنھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
واشنگٹن میں جان ایف کینیڈی سینٹر میں تقریر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے بعض علاقوں سے اپنے شہریوں کو نکالنے کی ہدایت اس لیے جاری کی ہے کیوں کہ وہ علاقے انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
روزنامہ "واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی سفارت خانے اور فوجی اڈے ہنگامی حالت میں ہیں، کیوں کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے خطرے کے باعث تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
العربیہ اور الحدث نے قبل ازیں اطلاع دی تھی کہ واشنگٹن نے امریکی سفارتی اور فوجی اہل کاروں کے خاندانوں کی منتقلی شروع کر دی ہے، جن میں امریکی بحری بیڑے کے اہل کار بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ کسی براہِ راست خطرے کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک احتیاطی اقدام ہے، کیوں کہ ایٹمی مذاکرات میں تناؤ اور اسرائیلی بیانات میں شدت آتی جا رہی ہے۔
العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے مزید تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں تا حال کوئی اضافی فوجی کمک نہیں بھیجی ہے۔
اسی دوران، وائٹ ہاؤس کے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر صدر ٹرمپ کی ایک نئی وڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں امریکی فوج کی مشقوں کے مناظر کے ساتھ ان کی آواز میں ایک سخت پیغام شامل ہے، جسے جنگ کی تیاری کا عندیہ سمجھا جا رہا ہے۔ وڈیو میں ٹرمپ فوجیوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں "تم امریکہ کا دفاع زمین کے آخری کنارے تک کرو گے۔"
ادھر "این بی سی نیوز" نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل، امریکہ کی حمایت کے بغیر ایران پر یک طرفہ فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق واشنگٹن صورتِ حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے، کیوں کہ اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملے کی صورت میں ایران، خطے میں موجود امریکی افراد یا اثاثوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جو امریکہ کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ وائٹ ہاؤس نے تا حال اس معاملے پر سینئر ارکانِ کانگریس کو بریف نہیں کیا ہے۔
ان بڑھتی ہوئی کشیدگیوں کے باوجود، سلطنتِ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعيدی نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا چھٹا دور آئندہ اتوار کو عمان کے دار الحکومت مسقط میں منعقد ہو گا۔
-
ایٹمی ہیتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہیں: ایران کی امریکہ پر تنقید
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیاروں کا حصول نہیں کر ...
بين الاقوامى -
ایران پر اسرائیلی حملے کا اندیشہ ، امریکا انتہائی درجے کی چوکس حالت میں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اُن اطلاعات پر تبصرہ کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کے ممکنہ حملے کے بعد عراق میں امریکی مفادات پر ایرانی جوابی کارروائی متوقع
نئی رپورٹوں کے مطابق، امریکی حکام کو مطلع کیا گیا ہے کہ اسرائیل، ایران پر فوجی ...
مشرق وسطی