ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیاروں کا حصول نہیں کر رہا انہوں نے اپنے ملک کے ایمٹی عدم پھیلاؤ کے عزائم کا اعادہ کیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے الزام لگایا تھا کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ پیزشکیان نے وضاحت کی کہ تہران امریکہ اور یورپ کے ساتھ بات کر رہا ہے لیکن وہ ڈکٹیشن کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے دشمن اس پر حملہ کرنے کے لیے اندرونی کشمکش کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسی کوششوں کو ناکام بنادیں گے۔ دریں اثنا اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے کہا ہے کہ "جارحیت پسندوں" کو مسلح کرکے اور "اسرائیلی جرائم" کو فعال کرنے کے ذریعے علاقائی عدم استحکام کو ہوا دینے کی امریکی سینٹرل کمانڈ کی میراث امن کی بات کرنے یا جوہری پھیلاؤ کو روکنے کی کسی بھی ساکھ کو ختم کر رہی ہے۔ ایران کے مشن نے ’’ ایکس‘‘ پر مزید کہا کہ فوجی ذرائع نہیں بلکہ سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ زبردست طاقت کا خطرہ حقائق کو تبدیل نہیں کرے گا۔ ایران جوہری ہتھیار کا خواہاں نہیں ہے اور امریکی عسکریت پسندی صرف عدم استحکام کو ہوا دے رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کے چھٹے دور سے قبل ہوئی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا ایران کے ساتھ نمٹنے کے لیے فوجی آپشن کا اشارہ دیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر تنازع ہوا تو ان کا ملک امریکی اڈوں پر حملہ کرے گا۔
ناصر زادہ نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ دوسری طرف سے کچھ حکام فوجی کارروائی کی دھمکی دے رہے ہیں اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے اور اگر کوئی تنازعہ مسلط کیا گیا تو ہم خطے میں تمام امریکی اڈوں کو زبردستی نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران نے حال ہی میں دو ٹن وار ہیڈ کے ساتھ ایک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔
ناصر زادہ نے زور دیا کہ ان کا ملک اپنے میزائل پروگراموں پر پابندیاں قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق مذاکرات کا چھٹا دور آئندہ اتوار کو سلطنت عمان میں منعقد ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ مذاکرات جمعرات کو منعقد ہوں گے۔ دریں اثنا توقع ہے کہ ایران ایک ہفتہ قبل عمانی ثالث کے ذریعے پیش کی گئی سابق امریکی پیشکش پر جوابی تجویز پیش کرے گا۔