آئندہ گھنٹوں کے دوران ایران میں اہم اہداف پر حملے شروع کریں گے : اسرائیلی فوج

اسرائیلی فوجی عہدے دار کے مطابق "ہم نے تا حال فردو میں کوئی کارروائی نہیں کی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کریں گے نہیں … ہم نہیں چاہتے کہ ایران پر ہماری ضربیں جوہری تباہی کا باعث بنیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے منگل کے روز کہا کہ ایران میں فردو کی جوہری تنصیب ایک ایسا معاملہ ہے جس سے لازماً نمٹا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "فوج آج تہران میں نہایت اہم اہداف کو نشانہ بنائے گی۔"

کاتز نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ "ہم آج بھی نظام کے اہداف اور تہران میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، جیسے کل سرکاری نشریاتی ادارے کو نشانہ بنایا گیا، جو پروپیگنڈے اور اشتعال انگیزی کے لیے استعمال ہوتا ہے"۔ انھوں نے مزید کہا "اسرائیل کا لمبا ہاتھ ہر دشمن تک اور ہر مقام پر پہنچے گا۔"

اسی دوران، ایک اسرائیلی فوجی اہل کار نے کہا کہ تل ابیب ایران پر اپنے حملوں کے نتیجے میں کسی جوہری تباہی کا باعث نہیں بننا چاہتا۔ اس نے کہا "ہم نے ابھی تک فردو میں کوئی کارروائی نہیں کی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نہیں کریں گے۔"

اس نے یہ بھی کہا کہ "ایرانی میزائلوں نے اسرائیل میں شہری اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔"

اخبار "معاریف" نے ایک اعلیٰ فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر اہم اور حساس اہداف پر حملے شروع کرے گی۔

ذرائع کے مطابق "فی الحال مزید تفصیل دینا ممکن نہیں، لیکن اسرائیل اس جنگ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔"

اس نے کہا "اگلا مرحلہ نہایت تکلیف دہ اور خوف ناک ہوگا، اس کی جھلک آج صبح اور اب بھی دیکھی جا سکتی ہے۔"

نصف ایرانی میزائل لانچنگ پلیٹ فارموں کو ناکارہ بنا دیا گیا

اسرائیلی فوجی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ فوجی اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے تقریباً نصف لانچنگ پلیٹ فارموں کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے، اور ایران کے خلاف جاری کارروائی اب بھی اپنے عروج پر ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی سرزمین پر بہت سے دیگر اہداف اب بھی موجود ہیں جنھیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ آپریشن کے مقاصد پورے ہوں۔

اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق، اب تک 200 سے زائد لانچنگ پلیٹ فارموں کو غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے، جو ایران کی مجموعی بیلسٹک میزائل لانچنگ قوت کی نصف تعداد بنتی ہے۔

یہی بات اسرائیلی فوج کے نزدیک، میزائل فائرنگ کی شدت میں کمی اور اس کے دائرہ کار میں کمی کا ایک اہم سبب ہے۔

جنگ کے پانچویں دن فریقین کے درمیان شدید جوابی حملے

اسرائیل نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اس نے ایران میں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے اور فضائی حملوں میں ایک اعلیٰ فوجی کمانڈر کو ہلاک کیا ہے۔

جوابی کارروائی میں تہران نے بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں تل ابیب میں موساد کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کے مطابق تل ابیب اور اسرائیل کے وسطی علاقے میں میزائل اور ان کے ٹکڑے گرے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

فوج کے بیان کے مطابق، طبی عملہ ان علاقوں میں پہنچا جہاں میزائل گرے تھے۔

فوج نے کہا کہ اس کی فضائیہ نے رات کے وقت تہران کے قلب میں ایک کمانڈ سینٹر پر حملہ کیا، اور اس کارروائی میں علی شادمانی ہلاک ہو گیا، جو ایران کا چیف آف جنرل اسٹاف اور رہبر علی خامنہ ای کے قریب ترین افراد میں شمار ہوتا تھا۔

ادھر، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اطلاع دی کہ منگل کو اس نے تل ابیب میں اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس مرکز (امان) اور موساد کے ایک منصوبہ بندی مرکز کو نشانہ بنایا، جہاں آگ بھڑک اٹھی۔

تہران نے کہا کہ اس نے رات کے دوران تل ابیب اور حیفا میں ڈرونز کے ذریعے "اسٹریٹیجک اہداف" کو تباہ کیا۔

ایرانی بری فوج کے کمانڈر جنرل کیومرث حیدری نے اعلان کیا کہ "جدید اور ترقی یافتہ ہتھیاروں سے لیس ڈرونز کے ذریعے شدید حملے شروع ہو چکے ہیں اور آنے والے چند گھنٹوں میں مزید شدت اختیار کریں گے۔"

تہران نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی فضائی حملے، جو 13 جون سے جاری ہیں اور جن کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا بتایا جا رہا ہے، جب تک رُک نہ جائیں، اس وقت تک جوابی حملے جاری رہیں گے۔

جمعہ سے اب تک اسرائیلی طیارے ایران کی سیکڑوں فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں اور کئی اعلیٰ افسران کو قتل کر چکے ہیں۔

اسی طرح دونوں ملکوں میں عام شہری بھی مارے گئے، کیونکہ رہائشی علاقوں اور عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایران میں اسرائیلی فضائی حملوں میں اب تک کم از کم 224 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، یہ اعداد و شمار اتوار کو جاری کیے گئے تھے۔

منگل کو ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے اعلان کیا کہ پیر کے روز اس کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

اسرائیل پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں